تازہ ترین ۳۱ اگست ۲۰۲۶

بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کرسکتا، عالمی ثالثی عدالت

کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل) عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق کیس میں قرار دیا ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کرسکتا اور یہ معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کا پابند ہے اور مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیر و ڈیزائن میں معاہدے کی پابندی کرے۔ عدالت نے رٹلے پن بجلی منصوبے کے ڈیم پر مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ کا کام حتمی فیصلے تک روکنے سمیت تعمیراتی شیڈول کی رپورٹ پیش کرنے کی پابندی عائد کی ہے۔ فیصلے کے مطابق عبوری پابندیاں نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہیں گی، جبکہ حتمی فیصلہ جولائی 2027ء میں متوقع ہے۔ حکومت پاکستان نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ختم یا معطل نہیں ہوا اور بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔