تازہ ترین ۳۰ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں بدامنی پر سیاسی جماعتوں کا اظہار تشویش، حکومت سے مؤثر اقدامات اور عوام کے تحفظ کا مطالبہ

کوئٹہ (ویب نیوز)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے دکی لونی کے علاقے کلی بختیار خان میں بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں تین سگے بھائیوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور دیگر پرتشدد واقعات نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو فوری مالی معاونت فراہم کی جائے، بارودی سرنگوں سے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرکے ماہر ٹیموں کے ذریعے صفائی کرائی جائے اور حالیہ تمام پرتشدد واقعات کی غیر جانب دارانہ و شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ حکومت قیام امن میں اپنی ناکامی اور نااہلی کا ملبہ باغات کے مالکان پر ڈال رہی ہے اور انہیں دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن ریاست کی ذمہ داری جبکہ دہشت گردی کا خاتمہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کا کام ہے، کسی مقامی زمیندار یا باغ مالک کو محض اس بنیاد پر قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس کی حدود میں کسی نے زبردستی پناہ حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ان کی آبائی جائیدادوں سے بے دخل کرنا ناقابل قبول ہے، ایسے اقدامات سے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان مزید دوریاں اور عدم اعتماد پیدا ہوگا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی، محرومی اور عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے اور صوبے میں حکومت کی رٹ کہیں دکھائی نہیں دیتی، اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود امن و امان کی صورتحال حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، حکومت بلند بانگ دعووں کے بجائے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات کرے۔