تازہ ترین ۳۰ اگست ۲۰۲۶

امریکی جج نے خالد شیخ محمد کا اعترافی بیان مسترد کردیا

واشنگٹن: امریکی ملٹری جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے نائن الیون حملوں کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کی جانب سے ایف بی آئی کو دیے گئے اعترافی بیانات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مقدمے سے خارج کردیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق جج نے قرار دیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ خالد شیخ محمد کے بیانات رضاکارانہ طور پر دیے گئے تھے، جبکہ عدالت نے سی آئی اے کی جانب سے مبینہ ذہنی دباؤ اور تشدد کے تسلسل اور ایف بی آئی اہلکاروں کی جانب سے ملزم کو اس کے قانونی حقوق سے آگاہ نہ کرنے کو بھی اہم قرار دیا۔ خالد شیخ محمد کو 2003ء میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور نائن الیون مقدمے میں تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے اعترافات کی قانونی حیثیت پر طویل عرصے سے عدالتی جنگ جاری ہے۔ چاروں ملزمان کا مقدمہ گوانتانامو بے میں 5 جون 2028ء کو شروع ہونے کی تاریخ مقرر ہے، تاہم استغاثہ فیصلے کے خلاف ممکنہ اپیل کا جائزہ لے رہا ہے۔ نائن الیون حملے 11 ستمبر 2001ء کو ہوئے تھے اور ان کی 25ویں برسی قریب ہے۔