کوئٹہ (ویب نیوزڈ) بلوچستان اسمبلی کے مختلف ارکان نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات اور عوام کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں، کیونکہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا عمل ممکن نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے رکن اسمبلی میر زابد علی ریکی، بلوچستان جماعت اسلامی کے امیر اور رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، ڈاکٹر نواز کبزئی اور مولانا نور اللہ نے الگ الگ گفتگو میں کہا کہ بلوچستان کی شاہراہیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں اور حکومت کو سکیورٹی کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان ایک حساس اور وسیع صوبہ ہے، جہاں امن کی بحالی کے لیے منظم حکمت عملی، تمام اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ و ہم آہنگی اور عوام کا تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات نے عام شہریوں، تاجروں، مسافروں اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے، اس لیے قومی شاہراہوں، حساس علاقوں اور عوامی مقامات پر سکیورٹی مزید سخت کی جائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل صرف باہمی مشاورت، سیاسی استحکام اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں، لہٰذا حکومت تمام سیاسی و عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر مستقل امن کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دے۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ امن اور ترقی کو ترجیح دی ہے، اس لیے عوام بھی کسی مشکوک سرگرمی کے بارے میں متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں اور امن کے قیام کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کریں، جبکہ وہ صوبے میں امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔
