اسلام آباد ( صداقت انٹرنیشنل) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 22 مئی کو ملک بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مہنگائی، سیاسی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا تاہم پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے باعث مظاہرے مؤخر کیے گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین اور غزہ میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ امت مسلمہ بھی متحد کردار ادا نہ کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آپس کے اختلافات کا نہیں بلکہ امت کے اتحاد کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نفرت اور شدت کی سیاست کے بجائے اصولوں، محبت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو وہ اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ کی سیاست میں جب علما آگے بڑھتے ہیں تو انہیں دھاندلی کے ذریعے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ دار ہے جبکہ حکمرانوں کو اپنی خارجہ پالیسی درست کرنا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس کو ختم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی اور ملک میں امن، انسانی حقوق کے تحفظ اور مضبوط معیشت کی ضرورت ہے۔
