مقامی ۱۴ مئی ۲۰۲۶

منشیات ایک ناسور ہے، نوجوان نسل کو بچانے کے لیے سخت قانون سازی ناگزیر ہے، چیئرمین زمرک خان اچکزئی

کوئٹہ(روزنامہ صداقت انٹرنیشنل )صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس کا اہم اجلاس چیئرمین کمیٹی زمرک خان اچکزئی کی زیر صدارت اسمبلی کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں اراکین اسمبلی محمد خان لہڑی، مولوی نور اللہ، صفیہ بی بی اور متعلقہ محکموں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران “بلوچستان کنٹرول منشیات (نشہ آور اشیا)بل 2026” پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور صوبے سے منشیات کے خاتمے کے لیے مجوزہ قانونی ڈھانچے کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، جس کے تحت محکمہ ایکسائز میں کانٹر نارکوٹکس ونگ قائم کر دیا گیا ہے اور اب تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشنز کے قیام کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی زمرک خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے اور اس لعنت کے خاتمے کے لیے قانون کا نفاذ بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منشیات فروش عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے اور اس جنگ میں معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص والدین، اساتذہ اور علما کرام اپنا موثر کردار ادا کریں تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔ اجلاس میں رکن کمیٹی مولوی نور اللہ نے منشیات کی دینی و اخلاقی ممانعت پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کی صحیح تربیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی قانون سازی کے ذریعے منشیات کی پیداوار، اسمگلنگ اور ترسیل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔