تازہ ترین ۱۸ اگست ۲۰۲۶

امید ہے اسلامی امارت کے چھٹے سال کا آغاز بچیوں کی تعلیم دوبارہ شروع ہونے کی خوشخبری سے ہو، طالبات

کوئٹہ (ویب نیوز) اسلامی امارت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے چھٹے سال کے آغاز پر اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے محروم افغان طالبات نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے کئی سالہ انتظار کو ختم کرتے ہوئے شریعت کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انہیں دوبارہ تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ وہ شرعی حجاب کی پابندی اور تعلیمی ماحول کے لیے مقررہ اصولوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کابل کی طالبہ یلدا احمدزادہ نے کہا کہ اگر چھٹی جماعت سے اوپر لڑکیوں کی تعلیم معطل نہ کی جاتی تو وہ اب تک اسکول سے فارغ التحصیل ہوچکی ہوتیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی امارت چھٹے سال کے آغاز پر لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے کھول دے گی۔ ایک اور طالبہ ہاجرہ نے کہا کہ ایک لڑکی کے لیے کئی سال کا تعلیمی تعطل معمولی بات نہیں، بہت سی طالبات ڈاکٹر، استاد، انجینئر اور مختلف شعبوں کی ماہر بننے کی خواہش رکھتی تھیں۔ کابل کی غالب یونیورسٹی کی سابق طالبہ نبیلہ نے بھی کہا کہ تعلیم معطل ہونے سے اس کے مستقبل کے منصوبے ادھورے رہ گئے اور وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے دوبارہ یونیورسٹی جانے کی اجازت چاہتی ہے۔