کوئٹہ (ویب نیوز) ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی نے خلیج فارس میں امریکی فوج کی موجودگی کے دور کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص کسی امریکی فوجی کو قتل یا گرفتار کرکے ایرانی حکام کے حوالے کرے گا اسے 30 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا، جبکہ ایرانی خاتون کی جانب سے ایسی کارروائی کی صورت میں انعام کی رقم دوگنا ہوگی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنرل امیر حاتمی نے صحافیوں کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک اہم جغرافیائی و تزویراتی اثاثہ ہے اور اس حوالے سے ایران اپنی حاصل شدہ برتری کو دوبارہ سابقہ پوزیشن پر نہیں جانے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ فوجی موجودگی قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکی فوجی اڈے ماضی کی حالت میں بحال نہیں ہوسکیں گے۔ ایرانی آرمی چیف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حالیہ جنگ نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ایران نے امریکی فوج کو دہشت گرد ادارہ قرار دے رکھا ہے جبکہ امریکا نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان 28 فروری کو جنگ شروع ہوئی تھی، جو تقریباً 40 روز جاری رہنے کے بعد اپریل میں جنگ بندی پر ختم ہوئی، تاہم بعد میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔
