کابل (ویب نیوز) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغان قوم کے دو بنیادی اصول دینی اقدار اور اپنی سرزمین کا تحفظ ہیں، جن سے وہ کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اسلامی امارت کے ساتھ تعامل نہ کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ تعامل کی پالیسی اختیار کریں۔ کابل میں 24 اسد کی مناسبت سے لویہ جرگہ خیمے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا کہ افغان عوام نے ہمیشہ اپنی سرزمین پر غیر ملکی قبضے کی مخالفت اور دفاع کیا ہے، آج حکومت اور عوام مل کر اپنے دین اور وطن کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان قوم دین اور اپنی سرزمین کے تحفظ کو بنیادی اقدار سمجھتی ہے اور کسی صورت اپنی ایک بالشت زمین بھی کسی کو نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جن ممالک نے اسلامی امارت کے ساتھ تعامل کیا، انہیں اس کا فائدہ ہوا، جبکہ جن ممالک نے تعامل نہیں کیا وہ اپنے منفی رویے سے کچھ حاصل نہیں کرسکے، اس لیے انہیں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ متقی نے کہا کہ افغانستان پر ماضی میں سوویت یونین اور بعد ازاں امریکا و نیٹو نے اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کی، تاہم افغان عوام نے انہیں قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور عوام مشترکہ اقدار رکھتے ہیں اور ملک میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ تقریب سے دیگر حکام نے بھی خطاب کیا۔ مولوی عبدالسلام حنفی نے کہا کہ اسلامی امارت ہر سال شہدا کے ورثا، یتیموں اور معذور افراد کے لیے 12 ارب سے زائد افغانی بطور کفالت مختص کرتی ہے۔ دیگر مقررین نے بھی افغانستان کی آزادی، خودمختاری، امن اور قومی اقدار کے تحفظ پر زور دیا اور مخالفین سے ملک میں دوبارہ جنگ و بدامنی پیدا کرنے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔
