کوئٹہ (ویب نیوز) 15 اگست 2026ء: افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پانچ سال مکمل ہوگئے، تاہم اس عرصے کے دوران ملک کو شدید انسانی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا سامنا ہے۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد 15 اگست 2021ء کو طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تھا، جس کے بعد خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم و ملازمت پر پابندیوں، بڑھتی ہوئی غربت، غذائی قلت اور عالمی امداد میں کمی نے افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق افغانستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ لاکھوں بچے غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے باعث تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ خواتین کے روزگار، آزادانہ نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں عائد ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2022ء کے بعد افغانستان کو ملنے والی مجموعی انسانی امداد میں تقریباً 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور امداد کی کمی کے باعث متعدد صحت مراکز بھی بند ہوچکے ہیں۔ طالبان حکومت کی جانب سے پوست کی کاشت پر پابندی کے نتیجے میں افیون کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی، تاہم دیہی خاندانوں کے لیے متبادل معاشی ذرائع پیدا نہ ہونے کے باعث مشکلات بڑھیں اور مصنوعی منشیات کی پیداوار و اسمگلنگ میں اضافے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب داعش خراسان اور القاعدہ سمیت بعض شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے جبکہ چین سمیت بعض ممالک نے کابل میں سفارتی نمائندگی قائم کر رکھی ہے، تاہم بیشتر اہم ممالک نے طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکی ہے کہ افغان عوام کی انسانی ضروریات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ طالبان حکومت سے کس نوعیت کا تعلق رکھا جائے۔
