کوئٹہ (ویب نیوز) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کا مکمل طور پر دوبارہ کھلنا اولین شرط قرار دے رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے خلاف اپنے فوجی اہداف حاصل کرلیے ہیں اور اب توجہ آبنائے ہرمز کی بحالی پر مرکوز ہے، تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کی صورت میں امریکا جوہری معاہدے کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے اور موجودہ جنگ بندی برقرار رکھنے پر غور کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ گزشتہ جون میں ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا تھا، جبکہ امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش کا امریکی انٹیلی جنس سراغ لگا لے گی۔ امریکی حکام کے مطابق اگر ایران کے جوہری پروگرام میں نمایاں پیش رفت نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی گئی تو امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے پر آمادہ ہوسکتا ہے، تاہم واشنگٹن اب بھی ایران کے جوہری پروگرام کی بحالی روکنے کے لیے ضمانتوں کا خواہاں ہے۔
