اسلام آباد(صداقت انٹرنیشنل ویب نیوز )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے پہلے 8 ماہ کے دوران پاکستان کی معیشت میں کم افراط زر، بڑی صنعتوں کی بحالی، شرح مبادلہ میں استحکام، سٹاک مارکیٹ کی ریکارڈ کارکردگی، پی ایس ڈی پی کے موثر استعمال اور ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔وزارت منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مئی 2025ء سے باقاعدگی کے ساتھ جاری ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ نے مسلسل اشاعت کا ایک سال مکمل کر لیا ہے اور اب یہ معاشی و ترقیاتی پالیسی سازی کے لیے ایک مستند حوالہ بن چکی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا بیرونی خطرہ بن کر سامنے آیا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، درآمدی بل اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ مارچ 2026ء میں مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد تھی جو اپریل میں بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تاہم جولائی تا فروری اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع نہ ہوتا تو پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد تک پہنچ سکتی تھی۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف نے بھی عالمی اقتصادی شرح نمو 2026ء میں 3.1 فیصد رہنے اور عالمی افراط زر 4.4 فیصد تک بڑھنے کی پیشگوئی کی ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے 22 میں سے 15 شعبوں نے مثبت ترقی ریکارڈ کی جبکہ مجموعی صنعتی پیداوار میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا۔ آٹوموبائل شعبے کی پیداوار میں 61.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ برقی آلات، خوراک، مشروبات، ملبوسات اور غیر دھاتی معدنی مصنوعات کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ جولائی تا اپریل ایف بی آر کی وصولیاں 10.3 کھرب روپے تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.3 فیصد زیادہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے میں 5.73 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ گندم، چاول اور گنے کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدن 1901 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پاکستان کی معاشی خودمختاری کا انحصار برآمدات کے فروغ پر ہے اور برآمدات میں اضافے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر پاکستان کو آئندہ برسوں میں ایک مضبوط برآمدی معیشت بنانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔
