تازہ ترین ۳ اگست ۲۰۲۶

اے این پی بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار، محض اعلانات نہیں عملی اقدامات کا مطالبہ

کوئٹہ (ویب نیوز) عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے، عام شہریوں کے ساتھ ریاستی اداروں سے وابستہ افراد بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، حکومت حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے اگست کی یاد میں 8 اگست کو چمن میں جلسہ عام جبکہ 17 اگست کو کوئٹہ میں سیمینار منعقد کیا جائے گا جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنما اور سانحہ زیارت کے متاثرین شرکت کریں گے۔ اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ سانحہ زیارت، ہنہ، شعبان، زرغون غر اور شاہرگ سمیت مختلف واقعات نے عوام کو شدید متاثر کیا، جبکہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی ٹارگٹ کلنگ سے خوف کی فضا مزید گہری ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل سیاسی، معاشی، سماجی اور انتظامی نوعیت کے ہیں جنہیں وسیع تناظر میں حل کرنے کی ضرورت ہے، صرف چند افراد یا سرداروں تک محدود قرار دینا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور امن، انصاف اور برابری کے حقوق کی فراہمی کے بغیر مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔ اے این پی رہنما نے کہا کہ چمن اور طورخم سمیت اہم تجارتی راستوں کی بندش سے ہزاروں خاندان، تاجر اور مزدور متاثر ہو رہے ہیں، حکومت کو فوری اقدامات کرکے معاشی سرگرمیاں بحال کرنی چاہئیں۔ انہوں نے انتظامی تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن سے علیحدہ کرنے، موسیٰ خیل کی یونین کونسلوں کو بارکھان میں شامل کرنے اور شیرانی کے ضلعی ہیڈکوارٹر کی تبدیلی کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے۔ اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ مضبوط سیاسی نظام، جمہوری جدوجہد اور عوامی شمولیت ہی مسائل کا حل ہے، جبکہ محسن نقوی کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو سے نفرت کی بو آتی ہے۔