تازہ ترین ۱ اگست ۲۰۲۶

کوئٹہ: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کا اہم اجلاس، امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار

کوئٹہ( پ ر+ سید سردار محمد خوندئی )
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیر صدارت پارٹی ضلع کوئٹہ کی ضلعی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں پارٹی کے مرکزی سینئر سیکرٹری سید قادر آغا ایڈووکیٹ، صوبائی آفس سیکرٹری ندا سنگر، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز رحمت اللہ صابر، پروفیسر اسد ترین، علی محمد ترین، سلیمان بازئی سمیت دیگر ضلعی و تنظیمی ذمہ داران نے شرکت کی۔
اجلاس میں موجودہ سیاسی، تنظیمی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے، عوامی رابطہ مہم تیز کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ایک قومی، جمہوری اور عوام دوست سیاسی تحریک ہے، جس کا بنیادی مقصد پشتون عوام کے قومی، سیاسی، معاشی، سماجی اور آئینی حقوق کا تحفظ، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا قیام، وسائل پر عوام کے حق ملکیت کو یقینی بنانا اور ایک پرامن، بااختیار اور خوشحال معاشرے کی تشکیل ہے۔
مقررین نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت پارٹی نے جنوبی پشتونخوا سمیت پورے پشتونخوا وطن میں ابتدائی یونٹوں کے قیام، ضلعی، علاقائی اور یونٹ سطح کی کانفرنسوں، تنظیمی اجلاسوں اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ پارٹی کا پیغام ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر گھر تک پہنچایا جا سکے اور عوام کو قومی و جمہوری جدوجہد میں مزید مؤثر انداز میں شریک کیا جا سکے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ صوبہ بلوچستان، بالخصوص پشتونخوا وطن، اس وقت اپنی تاریخ کے نہایت نازک اور تشویشناک دور سے گزر رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، مسلح جتھوں کی آزادانہ نقل و حرکت، قومی شاہراہوں پر ناکہ بندی، بھتہ خوری اور بے گناہ شہریوں پر حملے معمول بن چکے ہیں، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔
اجلاس نے کہا کہ سانحہ زیارت، سانحہ نورک، سانحہ شاہرگ اور گزشتہ روز ہنہ اوڑک میں مسلح جتھوں کے حملوں سمیت مسلسل پیش آنے والے افسوسناک واقعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ صوبے میں ریاستی رٹ شدید کمزور ہو چکی ہے۔ کوئٹہ-خضدار، کوئٹہ-نوشکی، کوئٹہ-سبی، کوئٹہ-لورالائی اور دیگر اہم قومی شاہراہیں عملاً غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ مسافر، مریض، خواتین، طلبہ، سرکاری ملازمین، مزدور، تاجر اور ٹرانسپورٹر خوف و ہراس کے ماحول میں سفر کرنے پر مجبور ہیں، مگر حکومت نہ ان شاہراہوں کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کر سکی ہے۔
اجلاس نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جب ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور آئین کے نفاذ میں ناکام ہو جائے تو عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔
اجلاس میں مزید کہا گیا کہ آج پشتونخوا وطن کے عوام متعدد بحرانوں کا شکار ہیں۔ ایک جانب دہشت گردی، بدامنی اور عدم تحفظ نے معمولات زندگی مفلوج کر دیے ہیں، تو دوسری جانب بے روزگاری، مہنگائی، غربت، بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی زبوں حالی، ترقیاتی منصوبوں کی بندش، قدرتی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے محروم رکھنے کی پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
اجلاس نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام واقعات کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے اصل حقائق اور ذمہ دار عناصر کو عوام کے سامنے لایا جائے، قومی شاہراہوں پر شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، تمام مسلح جتھوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، لاپتہ افراد کے مسئلے کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جائے اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی قوتوں، منتخب نمائندوں اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر جامع اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔
آخر میں اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی دہشت گردی، انتہا پسندی، جبر، غیر آئینی اقدامات، وسائل کی لوٹ مار، قومی حقوق پر ہر قسم کے ڈاکے، عوام دشمن پالیسیوں اور جمہوری اقدار پر حملوں کے خلاف اپنی آئینی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھے گی۔