اسلام آباد (ویب نیوز): قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران 19 ارب 23 کروڑ روپے کی مشکوک ادائیگیوں کا معاملہ سامنے آیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ بی آئی ایس پی قانون کے تحت ضلع یا صوبے سے باہر ادائیگی کی اجازت نہیں، تاہم 39 اضلاع کی رقوم ملتان کی ایک موبائل شاپ سے نکالی گئیں جبکہ جائزہ لیے گئے متعدد مستحقین میں سے نصف سے زائد کا سراغ نہ مل سکا۔ کمیٹی نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات تیز کرنے کی ہدایت کی، جبکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی جانب سے بی آئی ایس پی سے رقوم لینے کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر معاملہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔
