پاکستان ۳ مئی ۲۰۲۶

پاکستان کا کردار: توازن کی کوشش یا ابہام کا شکار پالیسی؟

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی محض دو ریاستوں کا تنازع نہیں رہی؛ یہ ایک ایسا تزویراتی کھیل بن چکی ہے جس میں عالمی طاقتیں، علاقائی اتحادی، توانائی کی منڈیاں اور دفاعی صنعت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کشیدگی کو بعض حلقے اس انداز میں بھی دیکھتے ہیں کہ ایران کو مستقل “خطرہ” بنا کر پیش کیا جائے تاکہ خطے میں خوف برقرار رہے اور اسلحہ کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہے۔اسی تناظر میں خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، کی جانب سے اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے سامنے آتے ہیں، جو بالآخر امریکی جنگی صنعت کو تقویت دیتے ہیں۔ مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ وہ ہے جہاں ایران اس کشیدگی کو اپنے لیے سفارتی اور سیاسی مواقع میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے—پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور مزاحمتی بیانیہ کی مضبوطی اسی کا حصہ ہیں۔تاہم اس پوری صورتحال میں ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا فریق چین ہے۔ چین کی معیشت توانائی کے مسلسل اور سستے بہاؤ پر انحصار کرتی ہے۔ خلیجی خطے میں عدم استحکام، تیل کی رسد میں رکاوٹ اور قیمتوں میں اضافہ براہِ راست چین کی صنعتی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔ مزید برآں، چین کے بڑے منصوبے—خصوصاً بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور پاکستان کے ذریعے اقتصادی راہداری—بھی اسی خطے کے استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔ کشیدگی جتنی بڑھے گی، چین کے تجارتی راستے اتنے ہی غیر یقینی کا شکار ہوں گے۔دوسری جانب “نظامِ تبدیلی” کا بیانیہ بھی اس تنازعے کا ایک حساس پہلو ہے۔ ماضی میں امریکہ کی قیادت کی جانب سے بعض بیانات نے یہ تاثر دیا کہ ایران میں حکومتی ڈھانچے کی تبدیلی ایک خواہش یا ہدف ہو سکتی ہے۔ تاہم عملی سطح پر یہ معاملہ نہایت پیچیدہ ہے۔ ایران کی داخلی ساخت، علاقائی اثر و رسوخ اور عالمی ردِعمل ایسے کسی بھی اقدام کو انتہائی خطرناک بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے یہ بیانیہ زیادہ تر دباؤ بڑھانے یا سیاسی پیغام دینے تک محدود نظر آتا ہے۔پاکستان کا کردار اس تمام منظرنامے میں نہایت حساس اور نازک ہے۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، جغرافیائی اور سرحدی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس کے تزویراتی مفادات وابستہ ہیں۔ حالیہ عرصے میں ایران کی قیادت کے بعض متضاد بیانات اور خطے کی بدلتی صف بندیاں پاکستان کے کردار کو ابہام کا شکار بناتی دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہو پائے گا یا اسے کسی ایک جانب جھکاؤ اختیار کرنا پڑے گا۔اس کشیدگی کے معاشی اثرات سب سے زیادہ شدید ہیں۔ تیل کی ترسیل میں معمولی خلل بھی عالمی قیمتوں کو اوپر لے جاتا ہے، جس کا براہِ راست اثر صنعت، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ پر پڑتا ہے۔ چین جیسے صنعتی ملک سے لے کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک تک، ہر معیشت اس دباؤ کو محسوس کرتی ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو ایک سادہ دو فریقی تنازع کے طور پر دیکھنا حقیقت سے دوری ہے۔ اس میں امریکہ کی جنگی صنعت، ایران کی مزاحمتی حکمتِ عملی، چین کے معاشی مفادات اور پاکستان جیسے ممالک کی سفارتی مجبوری ایک پیچیدہ جال کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کشیدگی کو زندہ رکھنے میں کس کا مفاد ہے—اور اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے۔۔