کوئٹہ (ویب نیوز)فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو اضافی وقت میں 0-1 سے شکست دے کر عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ فیران ٹوریز کے فیصلہ کن گول نے ایک ایسے مقابلے کا فیصلہ کیا جس میں دونوں ٹیموں نے اعلیٰ معیار کی فٹبال پیش کی، تاہم اسپین نے پورے میچ میں زیادہ منظم، جارحانہ اور مؤثر کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینز نے کئی یقینی گول بچا کر اپنی ٹیم کو طویل عرصے تک مقابلے میں برقرار رکھا، لیکن اضافی وقت میں وہ بھی اسپین کی برتری نہ روک سکے۔اس کامیابی نے اسپین کی فٹبال تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ اسپین مردوں اور خواتین دونوں کے عالمی کپ جیتنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا، جبکہ پورے ٹورنامنٹ میں اس کی دفاعی کارکردگی بھی غیر معمولی رہی۔ سات میچوں میں کلین شیٹ برقرار رکھنا اور آٹھ میچوں میں صرف ایک گول کھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید فٹبال میں متوازن دفاع اور اجتماعی حکمت عملی کس قدر اہم ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ارجنٹائن نے بھرپور مزاحمت کی، مگر فیصلہ کن لمحات میں وہ اسپین کی منظم حکمت عملی کا توڑ نہ نکال سکا۔ورلڈ کپ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ قوموں کو جوڑنے والا عالمی تہوار ہے۔ نیویارک سے میڈرڈ، بیونس آئرس سے کراچی تک لاکھوں شائقین نے بڑی اسکرینوں پر فائنل دیکھا اور اپنی اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی۔ ایسے عالمی مقابلے نوجوان نسل کو کھیلوں کی طرف راغب کرتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ مسلسل محنت، منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور ٹیم ورک ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہیں۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی یہ لمحہ غور کا ہے کہ اگر کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے، نوجوان ٹیلنٹ اور پیشہ ورانہ تربیت پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کی جائے تو عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
