بلوچستان حکومت، لواحقینِ شہداِ زیارت اور آل پارٹیز کے درمیان تحریری معاہدہ
۱۔ عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے حکومتِ بلوچستان، بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق آج ہی باقاعدہ مراسلہ جاری کرے گی۔ (مراسلے کی کاپی ساتھ منسلک ہے)
۲۔ حکومتِ بلوچستان تمام اضلاع بشمول دہشت گردی کے واقعات سے متاثرہ علاقوں (مثلاً ضلع زیارت، منجرا، ہرنائی، خوست، شاہرگ، سنجاوی، قلعہ عبداللہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، چمن اور ژوب) سمیت پورے بلوچستان میں دہشت گردوں اور بھتہ خور مسلح گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے انہیں ختم کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ کی سربراہی میں امن و امان کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز، سیکیورٹی اداروں کے سربراہان، سیاسی جماعتوں اور شہدا کے لواحقین کے ساتھ اگلے ہفتے ایک اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
۳۔ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے معاملے پر غور کے لیے اسمبلی کی ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں (بی این پی، پیپلز پارٹی، نون لیگ، بی اے پی، جے یو آئی، پی ٹی آئی اور وائی ڈی اے کے رہنماؤں) کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ مشترکہ آل پارٹیز کانفرنس ۱۵ دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اگر کانفرنس میں اتفاقِ رائے نہ ہو سکا، تو ایسی صورت میں اسمبلی کے اندر رائے شماری (ووٹنگ) کی جائے گی۔
۴۔ بلوچستان کے تمام شہری علاقوں میں امن و امان کو یقینی بنانے اور مرحلہ وار ذمہ داریاں سونپنے کے لیے پولیس کی استعدادِ کار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
۵۔ ضلع زیارت بالخصوص مانا، منجرا، کچ، پولیس تھانہ یا پٹکن اور ان سے ملحقہ علاقوں کی زمینوں سے متعلق، وزراء کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں تمام متعلقہ سرکاری افسران اور علاقے کے معتبرین پر مشتمل ۵ رکنی کمیٹی حصہ ہوگی۔ یہ کمیٹی متعلقہ علاقوں کی اراضیات کے سیٹلمنٹ اور تمام جملہ حقوق و دیگر معاملات طے کرے گی۔
۶۔ تمام شہدا بشمول سویلین شہدا کے لواحقین کو مروجہ پالیسی کے تحت ‘شہید پیکیج’ دیا جائے گا اور ان کے لواحقین اور بچوں کی کفالت و تعلیم حکومتی پالیسی کے عین مطابق کی جائے گی۔ اس معاوضہ مروجہ پالیسی کے تحت شہدا پیکیج میں مالی معاوضہ، پلاٹ، بچوں کی تعلیم و کفالت، شہید کوٹے میں بھرتی اور شہید کی بیوہ کی تنخواہ ۶۰ سال کی عمر تک جاری رہنا شامل ہے۔
۷۔ شہدا کے نام مختلف سرکاری عمارتوں اور کوئلہ پھاٹک چوک کو “شہداِ زیارت چوک” سے منسوب کیا جائے گا۔
۸۔ اس معاہدے پر دونوں فریقین کے متفق ہونے پر دھرنا ختم کر دیا جائے گا اور شہدا کی تدفین کی جائے گی۔
دستیاب حکومتی کمیٹی:
- چیئرمین صوبائی کمیٹی و صوبائی وزیرِ صحت: بخت محمد کاکڑ
- صوبائی وزیرِ داخلہ: میر ضیاء اللہ لانگو
