*21 فروری 2011 ضلع لورالائی کے علاقے کاسہ ہلز میں ماربل منصوبے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ اس منصوبے کی راہ اس وقت ہموار ہوئی جب علی زئی قبائل کے درمیان زمین کی ملکیت کا دیرینہ تنازع طے پایا۔ تقریب میں اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی، وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی، کمانڈر سدرن کمانڈ، اعلیٰ سول و عسکری حکام، ارکانِ اسمبلی، قبائلی عمائدین اور دیگر معززین شریک تھے۔
اس تقریب میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا جو قبائلی روایات کے منافی تھا ۔ ماضی کے فیصلوں اور روایت کے مطابق سپاس نامہ سردار گل محمد جوگیزئی نے پیش کرنا تھا، تاہم عین وقت پر فیصلہ ہوا، کہ سپاس نامہ نواب ایاز خان جوگیزئی پیش کریں گے۔ جس میں کرنل خالد چوہان نے اہم کردار ادا کیس۔ اس تبدیلی پر کچھ بد نظمی پیدا ہوئی اور سردار گل محمد جوگیزئی احتجاجاً تقریب سے روانہ ہو گئے۔ بعد ازاں وہاں موجود ایک بریگیڈیئر کی مداخلت سے صورتحال سنبھل گئی، سردار گل محمد جوگیزئی واپس آئے اور تقریب معمول کے مطابق جاری رہی۔
سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے نواب ایاز خان جوگیزئی نے ایک اہم اور تاریخی نکتہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ سرداروں پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں تعلیم اور ترقی نہیں آنے دیتے، مگر وہ پورے پشتون وطن کی طرف سے یہ ضمانت دیتے ہیں کہ حکومت تعلیم، ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بلا خوف و تردد شروع کرے، پشتون عوام ہر ممکن تعاون کریں گے۔ اسی موقع پر موسی خیل/تونسہ شریف شاہراہ جیسے ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔
آج، پندرہ برس بعد، جب اس تقریب کو یاد کیا جاتا ہے تو ایک تلخ سوال بھی سامنے آتا ہے۔ بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ اس کے بعد پشتون اکثریتی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال مسلسل بگڑتی گئی، بدامنی میں اضافہ ہوا، اور بعض علاقوں کے مکین نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ان علاقوں کے حالات رفتہ رفتہ خیبر پشتونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں ماضی میں پیش آنے والے حالات سے مشابہ ہوتے گئے۔ اس تاثر کی وجوہات، اسباب اور ذمہ داریوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ریاستی اداروں، منتخب نمائندوں اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسی تناظر میں پشتون عوام کے ذہن میں ایک سوال بار بار جنم لیتا ہے کہ اگر بعض دیگر معدنی وسائل جس میں سونا چاندی اور تانبے سے مالا مال علاقوں میں ترقیاتی منصوبے اور ریاستی رٹ نسبتاً برقرار رہ سکتی ہے تو پشتون اکثریتی علاقوں میں امن، ترقی اور عوامی اعتماد کیوں مسلسل ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں؟ یہ سوال کسی دوسرے خطے کی محرومی کی خواہش نہیں بلکہ اپنے علاقوں کے لیے مساوی امن، ترقی اور آئینی حقوق کا مطالبہ ہے۔
اسی دوران بعض حلقے یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ نئی انتظامی تقسیم، اضلاع اور ڈویژنوں کی تشکیل کے نتیجے میں پشتون اکثریتی علاقوں کی سیاسی نمائندگی اور انتظامی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ نئی انتظامی اکائیاں بہتر حکمرانی اور عوامی سہولت کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ اس اختلافِ رائے پر بھی کھلے، شفاف اور آئینی مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی فیصلے پر عوام کا اعتماد قائم رہ سکے۔
ان حالات میں پشتون معاشرے کے ایک بڑے حصے میں یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ اپنی سیاسی، انتظامی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے آئینی اور جمہوری راستوں پر نئے سیاسی مطالبات پر غور کیا جائے۔ یہ ایک سیاسی مؤقف ہے جس پر مختلف آراء موجود ہیں، لیکن اسے نظر انداز کرنے کے بجائے مکالمے کے ذریعے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حالیہ عرصے میں ایک اور منظر بھی توجہ کا مرکز بنا، جب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ایک بڑے عوامی احتجاجی اجتماع میں شرکت کرتے ہیں جہاں مقتولین کے لواحقین سراپا احتجاج ہیں ، نوجوانوں نے ان کی موجودگی میں احتجاجی نعرے بھی لگائے۔ اور شہداء کے جنازے میں شرکت سے روکنے کی مبینہ کوششیں کیں ۔اعر وزیراعلی اعلان کرتے ہیں کہ وہ بغیر بلٹ پروف گاڑی کے آئے ہیں ۔حالانکہ وہ سی ایم ہاؤس میں بھی انتہائی سیکورٹی میں رہتے ہے۔اس منظر نے یہ سوال مزید نمایاں کیا کہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں، بلکہ سیاسی اعتماد، انصاف، ترقی اور مسلسل مکالمہ بھی ناگزیر ہے۔
*اصل قومی سوال یہی ہے اگر پاکستان کے تمام شہری آئین کے تحت برابر ہیں، تو کیا پشتون اکثریتی علاقوں کو بھی وہی امن، تحفظ، ترقی، نمائندگی اور ریاستی توجہ حاصل ہے جس کے وہ آئینی طور پر حق دار ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب اطمینان بخش نہیں، تو پھر وقت آ گیا ہے کہ ریاست، سیاسی قیادت اور عوام مل بیٹھ کر ایسا راستہ تلاش کریں جو محرومیوں کے خاتمے، مساوی ترقی، امن اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنیاد فراہم کرے۔
