امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی کے ڈھانچے پر بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برسوں تک اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا بڑا حصہ امریکا پر استوار کرنے والی خلیجی ریاستیں اب تیزی سے ایسے متبادل شراکت داروں کی تلاش میں ہیں جو نہ صرف ان کی دفاعی ضروریات پوری کر سکیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی حالات میں انہیں زیادہ سفارتی گنجائش بھی فراہم کریں۔ اسی تناظر میں پاکستان، ترکیہ، مصر، چین، روس اور بعض یورپی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی اطلاعات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی دفاعی شراکت داریوں کا نقشہ بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اس موقع کو کس حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ قومی وقار کا تقاضا نہ غیر ضروری جوش ہے اور نہ غیر ضروری خوف، بلکہ حقیقت پسندانہ فیصلے اور قومی مفاد پر مبنی پالیسی ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے اپنی دفاعی صنعت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مقامی سطح پر جنگی سازوسامان کی تیاری، میزائل ٹیکنالوجی، بغیر پائلٹ فضائی نظام، بحری دفاعی سازوسامان اور جے ایف-17 لڑاکا طیارے جیسے منصوبوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان صرف اسلحہ خریدنے والا ملک نہیں رہا بلکہ محدود پیمانے پر دفاعی مصنوعات برآمد کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد دوست ممالک پاکستان کو ایک ممکنہ دفاعی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی دفاعی صنعت دنیا کی سب سے زیادہ مسابقتی اور حساس صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس شعبے پر امریکا، چین، روس، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، ترکیہ، جنوبی کوریا اور اسرائیل جیسے ممالک کا کئی دہائیوں سے مضبوط اثرورسوخ قائم ہے۔ ان ممالک نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، جدید سائنسی تحقیق، صنعتی ترقی اور وسیع سفارتی روابط کے ذریعے اپنی موجودہ حیثیت حاصل کی ہے۔ اس لیے اگر کوئی نیا ملک اس میدان میں آگے بڑھتا ہے تو اسے صرف تجارتی مقابلے کا ہی نہیں بلکہ سفارتی، سیاسی اور معاشی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم ہر سفارتی اختلاف یا ہر معاشی دباؤ کو سازش قرار دینا بھی حقیقت پسندانہ طرزِ فکر نہیں۔ عالمی سیاست میں ہر ریاست اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ بڑی طاقتیں بھی یہی کرتی ہیں اور ابھرتی ہوئی طاقتیں بھی۔ پاکستان کو بھی جذبات کے بجائے اسی اصول کو سامنے رکھ کر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے۔خلیجی ریاستوں کی جانب سے دفاعی شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش پاکستان کے لیے یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ غیر معمولی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ دفاعی تعاون صرف اسلحہ فروخت کرنے کا نام نہیں بلکہ اس میں تکنیکی معاونت، تربیت، مشترکہ تحقیق، طویل المدتی معاہدے، بروقت فراہمی اور بین الاقوامی اعتماد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر پاکستان اس میدان میں مستقل مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی صنعتی بنیاد، تحقیق و ترقی، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر دفاع اور اعلیٰ تعلیم میں مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔اس سے بھی زیادہ اہم پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔ پاکستان کو یہ تاثر ہرگز نہیں دینا چاہیے کہ وہ کسی ایک عالمی طاقت کے مقابلے میں کسی دوسرے اتحاد کا حصہ بن رہا ہے۔ دانشمندانہ سفارت کاری کا تقاضا یہی ہے کہ اسلام آباد امریکا، چین، خلیجی ممالک، ترکیہ، یورپی ریاستوں اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ متوازن اور باوقار تعلقات برقرار رکھے۔ خارجہ پالیسی میں توازن ہی وہ قوت ہے جو درمیانے درجے کی ریاستوں کو بڑے عالمی تنازعات سے محفوظ رکھتے ہوئے قومی مفادات کے حصول میں مدد دیتی ہے۔
