اداریہ ۷ جولائی ۲۰۲۶

دھواں، خاموشی اور ریاستی ذمہ داری.

بلوچستان ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں واقعات محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی سنجیدگی، حکومتی ترجیحات اور آئینی ذمہ داریوں پر بنیادی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ صوبے کے سیاسی، سماجی اور معاشی افق پر اس وقت ہر طرف بے یقینی کا دھواں پھیلا ہوا ہے۔ بازاروں سے لے کر شاہراہوں تک، دیہات سے لے کر سرکاری ایوانوں تک، احتجاج، اضطراب اور بے اعتمادی کی فضا محسوس کی جا سکتی ہے۔ it سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس دھویں نے صرف عوام کی آنکھیں نہیں جلائیں بلکہ اقتدار کے ایوان بھی اسی دھند میں گم دکھائی دیتے ہیں، جہاں نہ کسی کو حالات کی شدت کا مکمل ادراک ہے اور نہ ہی فوری اور مؤثر ردعمل نظر آتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں عوام کی مسلسل پکار، تاجروں کی فریاد، سیاسی جماعتوں کے انتباہ، قبائلی عمائدین کی گزارشات اور سول سوسائٹی کے خدشات کو نظر انداز کرتی رہیں تو بحران خود بخود ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ بلوچستان میں بھی یہی منظرنامہ ابھر کر سامنے آیا۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ہڑتال کی کال دی، مختلف سیاسی جماعتوں نے بیانات جاری کیے، حکومت خاموش رہی مگر جب عمل اقدام ہوا ۔تو حکومت نے سارے مطالبات ظاہراً تسلیم کئے اور وفاقی حکومت کی بھی زمہ داری لی۔ اس کے بعد ہنہ اوڑک اور گرد و نواح کے شہری سڑکوں پر نکلے، امن و امان کے حوالے سے مسلسل خطرات کی نشاندہی کی جاتی رہی، مگر حکومتی ردعمل رسمی بیانات اور وقتی یقین دہانیوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔پھر وہی ہوا جس کا اندیشہ پہلے سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔ انسانی جانیں ضائع ہوئیں، خاندان اجڑ گئے، علاقے خون سے رنگین ہو گئے اور جب حالات ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ گئے تو اچانک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، سینیٹائزیشن آپریشن، مشترکہ چیک پوسٹوں، مذاکراتی کمیٹیوں، مالی امداد اور دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کے فیصلے سامنے آ گئے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ اقدامات غلط ہیں؛ سوال یہ ہے کہ اگر یہی فیصلے پہلے کیے جا سکتے تھے تو انہیں خون بہنے کے بعد ہی کیوں نافذ کیا گیا؟ ریاست کی رٹ صرف بحران کے بعد دکھانے کی چیز نہیں بلکہ بحران کو جنم لینے سے پہلے قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی ریاست ہی پر عائد ہوتی ہے۔

یہ طرزِ حکمرانی ایک اور بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے۔ اگر اطلاعات، احتجاج، انٹیلی جنس رپورٹس، عوامی شکایات اور سیاسی انتباہات پہلے سے موجود تھے تو فیصلہ سازی کیوں مفلوج رہی؟ کیا حکومت حالات کی سنگینی سے بے خبر تھی، یا خبر ہونے کے باوجود مؤثر اقدام کرنے میں ناکام رہی؟ دونوں صورتیں تشویش ناک ہیں اور دونوں ہی عوام کے اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔

اس پورے بحران میں وفاقی حکومت کی خاموشی بھی کم سوالات پیدا نہیں کرتی۔ بلوچستان محض ایک صوبہ نہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی، معاشی اور دفاعی سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔ اگر ایک ایسا صوبہ مسلسل بدامنی، احتجاج، معاشی جمود اور انتظامی بحران کا شکار رہے تو وفاق کی آئینی ذمہ داری محض بیانات تک محدود نہیں رہ سکتی۔ آئین وفاق کو اس امر کا پابند بناتا ہے کہ وہ صوبوں میں امن، آئینی حکمرانی اور ریاستی اداروں کی مؤثر کارکردگی یقینی بنائے۔ اگر یہ ذمہ داری پوری نہیں ہو رہی تو اس کی سیاسی اور آئینی جواب دہی بھی لازم ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے ہر بحران کو صرف دہشت گردی کے زاویے سے دیکھنا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ جب عوام بار بار اپنی جان، مال، کاروبار اور مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں تو مسئلہ صرف سیکیورٹی کا نہیں رہتا بلکہ حکمرانی، انتظامی صلاحیت اور ریاستی اعتماد کا بھی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج صرف آپریشن یا اعلانات کافی نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کا غیر جانبدارانہ جائزہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

اسی تناظر میں وفاقی حکومت پر ایک بھاری آئینی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر وفاق واقعی اس بحران کا خاموش تماشائی ہے اور کسی بھی سطح پر موجودہ صورتِ حال کا شریک نہیں، تو اسے فوری طور پر ایک اعلیٰ اختیاراتی، آزاد اور غیر جانبدار خصوصی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنا چاہیے۔ اس کمیشن میں عدلیہ، سیکیورٹی ماہرین، آئینی ماہرین، انتظامی افسران اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے باوقار نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مسلسل بدامنی، فیصلہ سازی میں تاخیر، انٹیلی جنس اور انتظامی ناکامیوں، اور عوامی شکایات کو نظر انداز کیے جانے کی اصل وجوہات کیا تھیں۔ کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے اور جس سطح پر بھی غفلت، نااہلی یا اختیارات کے غلط استعمال کے شواہد ملیں، وہاں قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

اگر یہ بحران واقعی صرف انتظامی ناکامی کا نتیجہ ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ لیکن اگر حقائق اس سے مختلف رخ اختیار کرتے ہیں تو قوم کو بھی حقیقت جاننے کا حق حاصل ہے۔ شفاف تحقیقات ہی افواہوں، بداعتمادی اور سیاسی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر سکتی ہیں۔

ساتھ ہی وفاق کو یہ بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا کہ آیا موجودہ صوبائی انتظامی ڈھانچہ آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور انتظامی نظم برقرار رکھنے میں مسلسل ناکام ثابت ہو رہے ہیں تو آئین میں موجود تمام قانونی اور آئینی راستوں پر غیر جذباتی اور غیر جانبدارانہ غور کیا جانا چاہیے۔ مقصد کسی سیاسی قوت کو فائدہ یا نقصان پہنچانا نہیں بلکہ شہریوں کے جان و مال، آئینی حقوق اور ریاستی رٹ کا مؤثر تحفظ ہونا چاہیے۔

بلوچستان کو آج نعروں، وقتی اجلاسوں اور حادثات کے بعد ہونے والے فیصلوں کی نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی، جواب دہ حکمرانی اور شفاف احتساب کی ضرورت ہے۔ ریاست کی طاقت صرف اس کی عسکری صلاحیت میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو عوام اپنے اداروں پر کرتے ہیں۔ جب یہ اعتماد متزلزل ہونے لگے تو صرف طاقت نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور بروقت فیصلہ سازی ہی ریاست کو مضبوط بناتی ہے۔

بلوچستان مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دھویں کو ہوا دینے کے بجائے اس آگ کی اصل وجوہات تلاش کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں کسی نئے سانحے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے ریاست اپنی موجودگی ثابت کرے۔