ریاستوں کی پہچان ان کے نعروں سے نہیں بلکہ ان فیصلوں سے ہوتی ہے جو وہ بحران کے لمحوں میں کرتی ہیں۔ سانحات قوموں کا امتحان ضرور ہوتے ہیں، لیکن اس سے بھی بڑا امتحان حکومتوں کا ہوتا ہے کہ وہ دکھ اور دباؤ کے ماحول میں بھی قانون، آئین اور انصاف کا دامن تھامے رکھتی ہیں یا جلد بازی میں ایسے فیصلے کر بیٹھتی ہیں جو خود ریاست کی قانونی ساکھ پر سوالیہ نشان بن جائیں۔
ژوب کے قریب دانہ سر کا المناک حادثہ صوبے کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے کم از کم تین صوبوں کا مشترکہ المیہ ہے۔ اس حادثے کے بعد بلوچستان، خیبرپشتونخوا اور پنجاب کے گھروں میں صفِ ماتم بچھی، درجنوں خاندان اجڑ گئے، بچوں کے سروں سے سایہ اٹھ گیا اور ماؤں کی گودیں ویران ہو گئیں۔ ایسے قومی سانحے کے بعد عوام کی توقع تھی کہ حکومت جذباتی اعلانات کے بجائے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے اس المناک واقعے کی تہہ تک پہنچے گی، تاکہ صرف ایک حادثے کی رپورٹ نہیں بلکہ آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کا راستہ بھی ہموار ہو سکے۔
مگر افسوس کہ حادثے کی وجوہات سے زیادہ توجہ اس اعلان نے حاصل کر لی جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوآرڈینیٹر کے مطابق جاں بحق ڈرائیور سمیت کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی بات کی گئی۔ اگر یہی سرکاری مؤقف ہے تو یہ نہ صرف فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ کیا اتنے اہم معاملے پر قانونی ماہرین سے مشاورت کی گئی تھی؟ پاکستان کے فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ فوجداری ذمہ داری شخصی ہوتی ہے، اور کسی شخص کی وفات کے بعد اس کے خلاف فوجداری کارروائی جاری نہیں رہتی۔ اگر کوئی ملزم دورانِ مقدمہ وفات پا جائے تو کارروائی اس کی حد تک ختم ہو جاتی ہے، جبکہ جو شخص ایف آئی آر سے پہلے ہی وفات پا چکا ہو، اس کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنا قانونی اعتبار سے انتہائی قابلِ سوال امر ہے۔
حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ایسے اعلانات صرف قانونی بحث کو جنم نہیں دیتے بلکہ اصل سوالات کو بھی پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حادثہ کیوں پیش آیا؟ کس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی؟ کن اداروں نے غفلت برتی؟ اور کن کمزوریوں نے چالیس سے زائد قیمتی جانوں کو نگل لیا؟
اگر بعض عینی شاہدین کے بیانات درست ہیں کہ بس میں مبینہ طور پر غیر قانونی اشیا موجود تھیں اور اسی معاملے پر ڈرائیور انتظامیہ اور مسافروں میںتلخی پیدا ہوئی، تو پھر اصل سوال یہ بنتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس وقت قانونی طریقۂ کار کیوں اختیار نہیں کیا؟ اگر کوئی ممنوعہ یا غیر قانونی سامان موجود تھا تو قانون کا تقاضا یہی تھا کہ اسے تحویل میں لیا جاتا، گاڑی کو روکا جاتا، متعلقہ ذمہ دار افراد کے خلاف اسی وقت کارروائی کی جاتی اور مسافروں کی جانوں کو ہر قیمت پر محفوظ بنایا جاتا۔ اگر بروقت اور قانون کے مطابق کارروائی ہوتی تو ممکن ہے کہ کشیدگی پیدا نہ ہوتی اور یہ المناک حادثہ بھی رونما نہ ہوتا۔ یہ تمام پہلو غیر جانبدارانہ تحقیقات کے متقاضی ہیں، نہ کہ قبل از وقت نتائج اخذ کرنے کے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیقات صرف ڈرائیور تک محدود نہ رہیں۔ اگر گاڑی کی فٹنس میں کوتاہی ہوئی، اگر اوورلوڈنگ کی گئی، اگر روٹ پر نگرانی ناکافی تھی، اگر ٹرانسپورٹ کمپنی نے حفاظتی اصولوں کو نظرانداز کیا، اگر متعلقہ سرکاری محکموں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، یا اگر کسی چیک پوسٹ پر قانون کے نفاذ میں غفلت برتی گئی، تو ان تمام پہلوؤں کا یکساں احتساب ہونا چاہیے۔ انصاف اس وقت مکمل ہوتا ہے جب پورا نظام جواب دہ ہو، نہ کہ صرف ایک فرد کو تمام ذمہ داری کا مرکز بنا دیا جائے، خصوصاً جب وہ خود بھی اس حادثے میں جان کی بازی ہار چکا ہو۔
یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں قانونی طور پر کمزور اقدامات کے ذریعے حادثے کے بنیادی اسباب سے توجہ ہٹانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔ حکومت اگر اس تاثر کی نفی چاہتی ہے تو اس کا بہترین راستہ شفاف، آزاد اور جامع تحقیقات ہیں، نہ کہ ایسے اعلانات جو خود قانونی سوالات کو جنم دیں۔
ریاست کی طاقت قانون کو اپنی سہولت کے مطابق موڑنے میں نہیں بلکہ خود قانون کے سامنے جواب دہ ہونے میں ہے۔ حکومتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وقتی بیانات شاید چند گھنٹوں کی سرخیاں بن جائیں، مگر قانون کی کتابوں اور تاریخ کے صفحات میں صرف وہی فیصلے عزت پاتے ہیں جو انصاف، آئین اور قانونی اصولوں کے مطابق کیے گئے ہوں۔
ژوب دانہ سر کے شہداء اب واپس نہیں آسکتے، مگر ان کی قربانی رائیگاں نہیں جانی چاہیے۔ اس سانحے سے سبق لیتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ جذباتی اور غیر قانونی اعلانات کے بجائے ہر فیصلے سے پہلے مکمل قانونی مشاورت کرے، آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائے، تمام ممکنہ ذمہ داروں کا بلاامتیاز احتساب کرے اور ایسا نظام تشکیل دے جس میں کسی بھی خاندان کو دوبارہ اپنے پیاروں کی لاشیں ایک صوبے سے دوسرے اور تیسرے صوبے تک لے جانے کی اذیت نہ سہنی پڑے۔ یہی قانون کی حکمرانی ہے، یہی آئین کا تقاضا ہے اور یہی ایک ذمہ دار ریاست کا اصل امتحان بھی۔۔
