اداریہ ۳ جولائی ۲۰۲۶

بلوچستان: اربوں روپے کا امن، مگر عوام اب بھی غیر محفوظ

ریاست کی بنیادی ذمہ داری صرف حکومت کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو تحفظ، انصاف اور اعتماد فراہم کرنا ہے۔ جب کوئی ریاست یا حکومت عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہے، اربوں روپے کے بجٹ منظور کرتی ہے اور امن و امان کے نام پر خطیر وسائل مختص کرتی ہے تو اس کے بدلے میں عوام کا سب سے پہلا اور جائز مطالبہ یہی ہوتا ہے کہ ان کی جان، مال، عزت اور نقل و حرکت محفوظ ہو۔ اگر یہی بنیادی ذمہ داری پوری نہ ہو سکے تو بجٹ کے حجم، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری دعوؤں کی اہمیت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔

بلوچستان اس وقت اسی تلخ حقیقت سے گزر رہا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امن و امان کے مسائل سے دوچار ہے، مگر حالیہ برسوں میں پیش آنے والے واقعات نے عوام کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو پہلے سے کہیں زیادہ گہرا کر دیا ہے۔ قومی شاہراہوں پر مسلح افراد کی موجودگی، بین الاضلاعی شاہراہوں کی بندش، مسافروں کی شناخت کے بعد انہیں نشانہ بنانے کے واقعات، سرکاری و نجی املاک پر حملے اور اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سکیورٹی کے روایتی طریقہ کار پر ازسرِ نو غور کرنے اور اسباب معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ سوال اب صرف اپوزیشن یا ناقدین کا نہیں بلکہ ہر اس شہری کا ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سفر کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ ماضی میں خود حکومتی حلقوں سے یہ اعتراف سامنے آتا رہا کہ بعض شاہراہوں پر شام کے بعد سفر محفوظ نہیں۔ اگر آج اسی نوعیت کے خدشات دن کے اوقات میں بھی عوامی گفتگو کا حصہ بن جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بلوچستان کے بجٹ میں امن و امان کے لیے ہر سال سوا ارب روپے سے زائد مختص کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی آپریشنز، حساس تنصیبات کی حفاظت، چیک پوسٹوں اور کیمپوں کے انتظام، لاجسٹک معاونت، گاڑیوں، ایندھن، عمارتوں اور خصوصی سکیورٹی گرانٹس کی مد میں بھی بڑے پیمانے پر وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ رقم کتنی خرچ ہو رہی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کے نتائج عوام کو کیوں دکھائی نہیں دے رہے؟ اگر قومی شاہراہیں گھنٹوں غیر محفوظ رہیں، حملہ آور کارروائیاں مکمل کرکے واپس چلے جائیں اور ریاست بعد میں صرف نقصانات کا جائزہ لیتی نظر آئے تو اس صورت حال پر سوال اٹھانا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔

مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ مختلف اوقات میں اہم پلوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ پہلے بارودی مواد کے ذریعے تخریب کاری کی خبریں سامنے آتی تھیں، جبکہ حالیہ عرصے میں بعض واقعات میں بھاری مشینری کا استعمال ہو رہا ہے۔ اگر ایسی اطلاعات درست ہیں تو یہ صرف ایک سکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی نگرانی، انٹیلی جنس اور فوری ردعمل کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ اور عوام کا عدم تعاون ہے۔عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اتنے وسیع سکیورٹی انتظامات کے باوجود اہم قومی انفراسٹرکچر اس قدر غیر محفوظ کیوں ہے؟

حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل گورننس، ای گورننس اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی باتیں بارہا کی جاتی ہیں۔ حالانکہ مصنوعی ذہانت کی کوئی اہمیت نہیں یہ ہر ۔عروض کے لئے مختلف ہوتا ہے یہ عوام کے خیالات کا نچوڑ ہے۔ منصوری ذہانت سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔اس کے باوجود یہ ایک مثبت سمت معروضی تبییوںث کے ساتھ ہو سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ۔یہی جدید ٹیکنالوجی امن و امان کے شعبے میں پوری سنجیدگی سے استعمال ہو رہی ہے؟ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مصنوعی ذہانت، اسمارٹ کیمرہ نیٹ ورک، ڈرون نگرانی، خودکار نمبر پلیٹ شناختی نظام، جغرافیائی معلوماتی نظام ، ریئل ٹائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور پیش گوئی پر مبنی انٹیلی جنس تجزیے کے ذریعے جرائم کی روک تھام کی جا رہی ہے۔ بلوچستان جیسا وسیع، دشوار گزار اور حساس صوبہ شاید پاکستان میں وہ پہلا صوبہ ہونا چاہیے جہاں جدید ڈیجیٹل سکیورٹی نظام کو ترجیح دی جائے، کیونکہ روایتی طریقے اپنی محدودیت ثابت کر چکے ہیں۔

اسی تناظر میں حکومتی ترجیحات پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ اگر پرنٹ میڈیا کے لیے مختص سرکاری اشتہارات یا وسائل کو کم کرکے ڈیجیٹل میڈیا کو فروغ دینے کی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے تو یقیناً حکومت کو اپنے وسائل کے استعمال کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم اس سے کہیں زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہی عزم عوام کے جان و مال کے تحفظ، شاہراہوں کی سلامتی، جدید نگرانی کے نظام، انٹیلی جنس استعداد میں اضافے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھی دکھائی دے رہا ہے؟ حکومتیں اپنی تشہیر سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں، اور اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔

بلوچستان کی ترقی و خوشحالی معیشت شاہراہوں، معدنی وسائل، زراعت، تجارت اور بین الاضلاعی نقل و حمل سے جڑی ہوئی ہے۔ جب سڑکیں غیر محفوظ ہوں گی تو سرمایہ کار بھی خوفزدہ ہوں گے، کاروبار بھی متاثر ہوگا، مہنگائی بھی بڑھے گی اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا۔ امن و امان صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ امن و امان کے تصور کو صرف نفری، چیک پوسٹوں اور روایتی کارروائیوں تک محدود رکھنے کے بجائے جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ہر قومی شاہراہ کو اسمارٹ نگرانی سے منسلک کیا جائے، مصنوعی ذہانت پر مبنی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیے جائیں، ڈرون سرویلنس کو وسعت دی جائے، خطرات کی پیشگی نشاندہی کرنے والے ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جائیں، اور امن و امان پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کی کارکردگی کو عوام کے سامنے شفاف انداز میں پیش کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، روزگار، پینے کے صاف پانی اور بنیادی سہولیات پر سرمایہ کاری میں اضافہ بھی ناگزیر ہے، کیونکہ پائیدار امن صرف بندوق سے نہیں بلکہ انصاف، ترقی اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔

بلوچستان کے عوام کو سرکاری دعوؤں سے زیادہ عملی نتائج درکار ہیں۔ وہ ایسے حالات چاہتے ہیں جہاں ایک مزدور، ایک طالب علم، ایک تاجر اور ایک مسافر چاہئے وہ مقامی ہو یا مہ۔سن بلا خوف و خطر اپنی منزل تک پہنچ سکے۔ یہی کسی بھی ریاست کی اصل کامیابی ہے، اور یہی وہ معیار ہے جس پر ہر حکومت کو پرکھا جانا چاہیے۔

آخر میں سوال صرف ایک ہے: اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے تو پھر اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے یا ترجیحات کی؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، مؤثر حکمرانی اور عوام کے بحال ہوتے ہوئے اعتماد سے دیا جا سکتا ہے۔ غور و خوص اس سلسلے میں بنیادی نکتہ ہے۔جیسے نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔