بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کی روح کے منافی ہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ پانی کسی ریاست کی معاشی شہ رگ، زرعی بقا اور قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہوتا ہے، اس لیے پاکستان کی جانب سے اپنے حصے کے پانی کو “ریڈ لائن” قرار دینا ایک فطری اور جائز قومی مؤقف ہے۔ اگر اس ریڈ لائن کی خلاف ورزی کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کو محض احتجاجی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ہر قانونی، سفارتی، تکنیکی اور قومی سطح پر بھرپور اور منظم جواب دینا ہوگا۔
گزشتہ کئی برسوں کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ کمزور سفارت کاری یا رسمی احتجاج سے بھارت کی پالیسیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان عالمی بینک، اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالت انصاف اور دیگر متعلقہ عالمی فورمز پر مربوط اور مسلسل سفارتی مہم چلائے، دنیا کو یہ باور کرائے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر نئے ڈیموں کی تعمیر، آبی ذخائر میں اضافہ، نہری نظام کی بہتری اور پانی کے مؤثر انتظام کو قومی ترجیح بنایا جائے تاکہ پاکستان اپنی داخلی طاقت بھی مضبوط کر سکے۔
پاکستان کو اپنی قومی سلامتی، دفاعی تیاری اور سفارتی قوت کو اس سطح پر برقرار رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی ملک اس کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرنے کی جرات نہ کرے۔ تاہم کسی بھی اقدام کی بنیاد بین الاقوامی قانون، قومی مفاد اور ذمہ دار ریاستی پالیسی ہونی چاہیے۔ قومی وقار کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر مؤثر، قانونی اور سفارتی ذریعہ پوری قوت سے استعمال کرے، دنیا کو معاہدوں کی پاسداری پر آمادہ کرے اور واضح کر دے کہ قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
