تازہ ترین ۲۸ جون ۲۰۲۶

سائنسدانوں کا بلیک ہول کے ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ تک رسائی کا دعویٰ، نئی تحقیق نے آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کی مزید تائید کر دی

کوئٹہ (ویب نیوز) سائنسدانوں نے پہلی بار بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن، یعنی اس سرحد کے آثار دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے روشنی سمیت کوئی بھی چیز واپس نہیں آ سکتی۔ بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ پیش رفت دو بلیک ہولز کے انتہائی طاقتور تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں (ثقلی لہریں) کے تجزیے کے ذریعے ممکن ہوئی۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس حد کو عبور کرنے کے بعد کوئی بھی مادہ یا روشنی واپس نہیں آ سکتی، جس کے باعث اس خطے کا براہِ راست مشاہدہ ہمیشہ سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ ماہرین نے دو بلیک ہولز کے انضمام کے آخری مرحلے میں پیدا ہونے والی مخصوص ثقلی لہروں کا تجزیہ کرتے ہوئے ایونٹ ہورائزن کے انتہائی قریب کے علاقے سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کینیڈا کے پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سِژینگ ما کے مطابق ثقلی لہروں کی بدولت اب بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن کے اردگرد کے علاقے کا مطالعہ ممکن ہو رہا ہے۔ تحقیق کے دوران بلیک ہول کی گردش سے خلا اور وقت کے مڑنے کے عمل، جسے ’’فریم ڈریگنگ‘‘ کہا جاتا ہے، کے شواہد بھی سامنے آئے، جو آئن اسٹائن کے عمومی نظریۂ اضافیت کی مزید توثیق کرتے ہیں۔ تاہم سائنسی حلقوں میں اس تحقیق پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض ماہرین نے نتائج کو اہم قرار دیتے ہوئے مزید آزادانہ تصدیق کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ کچھ سائنسدانوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا ثقلی لہروں کے ذریعے واقعی ایونٹ ہورائزن کی خصوصیات کا براہِ راست تعین کیا جا سکتا ہے۔