پاکستان ۱۲ جون ۲۰۲۶

شہباز شریف ہتکِ عزت کیسسپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع بحال کر دیا

کوئٹہ (ویب نیوز)وزیراعظمشہباز شریفکے خلاف ہتکِ عزت مقدمے میں سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع بحال کرتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست اکثریتی بنیادوں پر منظور کر لی۔ جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس اور جسٹس شامل تھے، نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔ اکثریتی فیصلے میں بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے سابقہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے گئے اور ہتکِ عزت کا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کو سوالات کے جواب جمع کرانے کا مناسب موقع دیا جائے اور بعد ازاں قانون کے مطابق مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔ فیصلے میں 29 دسمبر 2022 کا سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا اکثریتی فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا گیا۔ دوسری جانب جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے اپنے اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے 2017 سے مقدمے میں غیر معمولی تاخیر کی، متعدد مواقع کے باوجود سوالات کے جوابات جمع نہیں کرائے اور ان کا طرزِ عمل عدالتی احکامات کی جان بوجھ کر نافرمانی کے مترادف تھا، اس لیے سابقہ اکثریتی فیصلے میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔