کوئٹہ (ویب نیوز)وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس ہاشم خان کاکڑ کا اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا، جس میں کیس کو عدالتوں کی بے بسی اور درخواست گزار کی غیر معمولی تاخیر کی کلاسک مثال قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقدمہ 2017 میں دائر ہوا لیکن درخواست گزار نے جواب جمع کرانے میں تقریباً چار سال کی تاخیر کی، جبکہ 16 مارچ 2022 کو سوالات دیے جانے کے باوجود متعدد مواقع ملنے کے باوجود جوابات جمع نہیں کرائے گئے، عدالتی ریکارڈ کے مطابق 26 اپریل 2022 کو جوابات کا مسودہ تیار تھا اور صرف سینئر وکیل کے دستخط باقی تھے، تاہم عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے بجائے مزید اعتراضات دائر کرکے کارروائی کو طول دیا گیا، اختلافی نوٹ میں قرار دیا گیا کہ یہ طرزِ عمل جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی نافرمانی کے مترادف تھا اور نظرثانی کا اختیار انتہائی محدود ہونے کے باعث سابقہ اکثریتی فیصلے میں کوئی ایسی واضح غلطی موجود نہیں تھی جو مداخلت کی متقاضی ہو۔
