پاکستان ۱۰ جون ۲۰۲۶

وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، خیبرپختونخوا میں نگران دور کی بھرتیاں غیرقانونی قرار

اسلام آباد(صداقت ویب سائٹ)وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں نگران حکومت کے دور میں کی گئی بھرتیوں کو خلافِ قانون قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے مؤقف کو درست تسلیم کر لیا۔ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ نگران حکومتوں کا بنیادی کام صرف روزمرہ سرکاری امور چلانا ہوتا ہے اور وہ مستقل نوعیت کے فیصلے یا تقرریاں کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔ عدالت نے کہا کہ نگران حکومت منتخب حکومت کے مساوی اختیارات نہیں رکھتی اور اس کے اہم اقدامات کے لیے کی پیشگی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملازمین کی بھرتی ایک مستقل نوعیت کا عمل ہے جسے عارضی یا معمول کے انتظامی امور میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے خیبرپختونخوا ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 کو آئین اور بنیادی حقوق کے مطابق قرار دیتے ہوئے برطرف ملازمین کی اپیلیں مسترد کر دیں اور واضح کیا کہ عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی کو قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔ یاد رہے کہ نگران دور میں درجہ چہارم کے متعدد ملازمین کو مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں صوبائی حکومت نے کالعدم قرار دے کر برطرف کر دیا تھا۔