مقامی ۱۰ جون ۲۰۲۶

11 جون سے غیر معینہ مدت تک پہیہ جام اور شٹر ڈان ہڑتال

کوئٹہ(ویب نیوز) آل بلوچستان گرینڈ ٹرانسپورٹرز اتحاد کے رہنماں، آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی ، پنجاب خیبرپختونخوا بس یونین ، آل بلوچستان بس یونین کے عہدیداران نے بلوچستان ٹرانسپورٹرز، تاجر اینڈ مائنز اونرز الائنس کی جانب سے 11 جون بروز جمعرات سے صوبہ بھر میں غیر معینہ مدت تک پہیہ جام ہڑتال اور شٹر ڈان ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ہڑتال سے بچنے کے لیے بزنس کمیونٹی کے پانچ نکاتی مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرکے ان پر عملی اقدامات یقینی بنائیں۔ آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے رہنماں حاجی میر حکمت لہڑی، صدر حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی، جنرل سیکرٹری میر اکبر لہڑی، حاجی موسی جان اچکزئی، پنجاب خیبرپختونخوا بس یونین کے چیئرمین میر حاجی دولت خان لہڑی، صدر حاجی وحید خان کاکڑ، جنرل سیکرٹری وزیر خان، سیکرٹری اطلاعات ظاہر شاہ کاکڑ، آل بلوچستان بس یونین کے حبیب اللہ خان، عبدالمتین، اقبال سرگڑھ اور دیگر رہنماں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے۔ کہ بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز، تاجروں، صنعتکاروں، مائنز مالکان اور دیگر کاروباری شعبوں سے وابستہ افراد طویل عرصے سے شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ روزگار سے وابستہ لاکھوں افراد کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ تنظیموں نے مشترکہ طور پر غیر معینہ مدت تک پہیہ جام اور شٹر ڈان ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ رہنماں نے کہا کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے کاروباری برادری کے جائز اور آئینی مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرکے ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائیں تو ہڑتال جیسے سخت فیصلے سے بچا جا سکتا ہے۔تاہم اگر مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور تمام متعلقہ شعبے بھرپور انداز میں اس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز، تاجر اور مائنز مالکان اپنے حقوق اور مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی قسم کے دبا، دھونس یا دھمکی کو قبول کریں گے۔ انہوں نے صوبے بھر کے ٹرانسپورٹرز، تاجروں، صنعتکاروں، مائنز مالکان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 11 جون سے شروع ہونے والی پہیہ جام اور شٹر ڈان ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل کے حل اور حقوق کے حصول کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔