مقامی ۱۰ جون ۲۰۲۶

گرینڈ الائنس کی غیر قانونی ہڑتال اور احتجاج میں ملوث محکمہ تعلیم کے 34 افسران و ملازمین کو بیڈا ایکٹ کے تحت سخت سزائیں، نوٹیفکیشن

کوئٹہ(ویب نیوز) گورنمنٹ آف بلوچستان کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے گرینڈ الائنس کے بینر تلے غیر قانونی احتجاج، دھرنوں اور ہڑتالی سرگرمیوں میں ملوث محکمہ تعلیم کے 34 افسران اور ملازمین کے خلاف جاری انکوائری کے بعد سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے سزاں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ سیکرٹری اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لعل جان جعفر کی جانب سے جاری کردہ آفیشل آرڈر کے مطابق، مذکورہ افسران اور ملازمین کے خلاف ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ان پر عائد کردہ فرائض سے غفلت اور بدعنوانی کے الزامات “بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011” کے تحت درست ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق، بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سیکرٹری تعلیم نے احتجاج میں ملوث تمام 34 ملازمین، جن میں چمن، قلات، خضدار، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، پشین، کوئٹہ، سبی، استاد محمد، زیارت، کچھی اور موسی خیل کے جے وی ٹی، ایس ایس ٹی، جے ای ٹی، پی ای ٹی اساتذہ سمیت اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، سپرنٹنڈنٹ اور کلرک شامل ہیں، پر مختلف نوعیت کی سخت سزائیں عائد کی ہیں۔ سزاں کی تفصیلات کے مطابق متعدد ملازمین کی دو سال کے لیے سالانہ انکریمنٹس (ترقیاں) روک دی گئی ہیں، تین سال کے لیے ان کی اگلے گریڈز میں ترقی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ متعدد ملازمین کی ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور جرمانہ ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سیکرٹری اسکول ایجوکیشن نے ڈائریکٹر اسکولز اور تمام ڈویژنل ڈائریکٹرز کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ان سزاں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنا کر رپورٹ محکمے کو ارسال کریں۔