کوئٹ(ویب نیوز)ایوان صنعت و تجارت بلوچستان، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، کول مائنز ایسوسی ایشن، انجمن تاجران، ایل پی جی ایسوسی ایشن اور دیگر کے رہنماؤں محمد ایوب مریانی، عبدالرحیم کاکڑ، فتح شاہ عارف، میر دولت لہڑی، حاجی نور محمد شاہوانی، رحیم آغا، سید عبدالقیوم آغا، اورنگزیب کاکڑ ایڈووکیٹ، سعید احمد لہڑی سمیت دیگر رہنماؤں نے بلوچستان مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور ٹائروں کو برسٹ کرنے، زبردستی سامان اتارنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ہمارے مسائل حل نہ کئے تو 11 جون کو تمام ٹرانسپورٹر اپنی گاڑیوں کو قومی شاہراہوں پر لاکر کھڑا کرکے احتجاج کریں گے پھر بھی شنوائی نہیں ہوئی تو ہم احتجاج کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے پہیہ جام،شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو دیگر تنظیموں کے رہنماؤں حاجی شیر علی بنگلزئی، حاجی اختر کاکڑ، سید عبدالخالق آغا، ڈاکٹر مزمل سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ محمد ایوب مریانی اور دیگر نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بزنس کمیونٹی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بلوچستان میں بد امنی کی بڑھتی ہوئی لہر میں صوبے کی بزنس کمیونٹی، تاجر برادری، ٹرانسپورٹروں، مال بردار گاڑیوں کے مالکان سمیت تمام کاروباری طبقے اور عوام کو ذہنی کوفت میں مبتلا کر رکھا ہے اسی طرح معدنیات کے شعبے اور بارڈر ٹریڈ کے حوالے سے ہمارے مسائل روز بروز بڑھتے جارہے ہیں ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں لیکن بلوچستان حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے حکومتی نمائندوں نے متعدد بار اعتراف کرنے کے باوجود شام کے بعد صوبے میں ریاستی رٹ کمزور پڑ جاتی ہے اور ٹرانسپورٹروں سمیت عوام کو رات کو سفر کرنے کی اجازت نہیں انٹر نیٹ اور مواصلاتی نظام نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رکھا ہے جس کی وجہ سے کاروباری طبقے، ٹرانسپورٹروں کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا خسارہ اٹھانا پڑرہا ہے گزشتہ کچھ عرصے سے نوشکی، احمد وال، کردگاپ، شیخ واصل، دالبندین، نوکنڈی، تفتان، قلات، بیلہ، پنجگور، مانجھی پور، زیارت، ہرنائی، راڑہ شم اور دیگر علاقوں میں مال بردار ٹرکوں اور گاڑیوں کو نذر آتش اور ان کے ٹائر برسٹ کرنے کے علاوہ مال بردار گاڑیوں سے زبردستی سامان اتارا جاتا ہے جس پر متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے کے باوجو دکوئی شنوائی نہیں ہوئی ہم میڈیا کے توسط سے وفاقی اور صوبائی حکومت کو 5 نکاتی مطالبات پیش کرتے ہیں کہ قومی شاہراہوں پر مسافروں، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے جلائے گئے ٹرکوں، ٹرالروں، ٹینکروں، گیس بوزر اور دیگر مال بردار گاڑیوں کا معاوضہ دیا جائے اور شاہراہوں پر خصوصی سیکورٹی فورس اور گشتی ٹیمیں تشکیل دی جائے بلیلی سے رکھنی، ڑوب دانہ سر، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر قائم غیر ضروری چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔ لیویز،ایف سی، پولیس اور دیگر اداروں کی الگ الگ چیک پوسٹوں کی بجائے مشترکہ جوائنٹ چیک پوسٹیں قائم کی جائیں۔ لکپاس پر تمام اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ قائم کی جائے۔ وفاقی حکومت، ایف سی اور دیگر اداروں کو کسٹم ایکٹ کے تحت دیئے گئے اختیارات واپس لئے جائیں اور کسٹم قوانین کا نفاذ صرف متعلقہ کسٹم حکام کے ذریعے عمل میں لایا جائے اور کسٹم کی جانب سے گاڑیوں کی غیر ضروری ضبطگی، مقدمات اور تاجروں کی ہراسانی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ بارڈٹریڈ، کسٹم کلیئرنس اور تجارتی سامان کی ترسیل کے لئے نظام کو صاف اور شفاف تیز بناتے ہوئے آسان بنایا جائے لکپاس کسٹم ہاؤس آتشزدگی کی تحقیقات کرکے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے اور بلوچستان کے تاجروں کو زمینی راستے سے درآمد ہونا والے سامان کی کسٹم ویلیوایشن میں 20 سے 25 فیصد رعایت دی جائے۔ شورومز اور تجارتی مراکز کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ادویات سے لوڈ گاڑیوں کے غائب ہونے کا سدباب کیا جائے اور کوئٹہ کراچی شاہراہ پر بھتہ خوری، چوری ڈکیتی کا قلع قمع کیا جائے کانوائے سسٹم کو بہتر بنایا جائے تاکہ مسافر بسوں، ٹرکوں اور کوچز کو کانوائے سسٹم سے مستثنیٰ قرار دیا جائے طور ناصر پھاٹک سے قلعہ سیف اللہ سمیت صوبہ بھر میں قومی شاہراہوں اور پلوں کی خستہ حالی کو بہتر بنایا جائے اور ہر مال بردار گاڑی کو 700 لیٹر ڈیزل رکھنے کی اجازت دی جائے۔ اور بلا جواز ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے اور صوبے میں الاٹ کئے گئے الاٹمنٹ کو منسوخ کیا جائے اور مقامی سرمایہ کاروں کو ترجیح دی جائے۔ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم11 جون کو اپنی گاڑیوں کو قومی شاہراہوں پر کھڑا کردیں گے پھر بھی کوئی شنوائی نہ ہوئی تو پھر احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو بلوچستان میں قومی شاہراہوں کو بند کریں گے۔
