پاکستان ۶ مئی ۲۰۲۶

صوبائی قرضوں کی غیر مساوی تقسیم اور بلوچستان کے وسائل کا مقدمہ

وزارتِ خزانہ کی جانب سے رواں مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی، یعنی جولائی سے دسمبر تک کے جاری کردہ اعدادوشمار صوبوں کی معاشی ترجیحات اور ترقیاتی سمت کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضوں کے حصول میں پنجاب 6.15 ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ سندھ 5.16 ارب ڈالر کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا نے 2.9 ارب ڈالر، آزاد جموں کشمیر نے 202 ملین ڈالر اور گلگت بلتستان نے 69 ملین ڈالر کا قرض لے رکھا ہے۔ تاہم، ان سب میں حیران کن صورتحال بلوچستان کی ہے جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود محض ساڑھے 37 کروڑ ڈالر کے بیرونی قرض تلے دبا ہوا ہے۔ بظاہر یہ اعدادوشمار ایک بہتر مالیاتی پوزیشن کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ ترقیاتی عمل میں بلوچستان کے پیچھے رہ جانے کی ایک بڑی علامت بھی بن کر ابھرتے ہیں۔دیگر صوبوں نے ان بیرونی قرضوں کا ایک بڑا حصہ میٹرو ٹرین، بی آر ٹی، بڑے شاہراہوں اور توانائی کے منصوبوں پر خرچ کیا، جس سے وہاں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ اس کے برعکس بلوچستان کی جانب سے کم قرض لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور اقتصادی ترقی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بلوچستان کے پاس لائیو اسٹاک کی صورت میں ایک ایسی دولت موجود ہے جو نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے، مگر جدید سلاٹر ہاؤسز، کولڈ چین سپلائی اور ڈیری پراسیسنگ یونٹس کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے یہ شعبہ آج بھی روایتی طریقوں تک محدود ہے۔اسی طرح بلوچستان کی زمین کوئلہ، کرومائیٹ اور دیگر بیش قیمت معدنیات کے خزانوں سے بھری پڑی ہے، لیکن ان وسائل کو جدید سائنسی بنیادوں پر نکالنے اور ان کی ویلیو ایڈیشن (Value Addition) کے لیے بین الاقوامی مالیاتی تعاون حاصل نہیں کیا گیا۔ یہی حال یہاں کے پھلوں کی پیداوار کا ہے، جہاں ایک طرف سیب، انگور اور انار جیسے سرد علاقوں کے بہترین پھل ہیں تو دوسری طرف مکران کے ساحلی پٹی پر کھجوروں کی عالمی معیار کی اقسام پیدا ہوتی ہیں۔ ان پھلوں کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے نہ تو بڑے پیمانے پر پراسیسنگ پلانٹس لگائے گئے اور نہ ہی برآمدی سہولیات فراہم کی گئیں۔ قرضوں کے حصول میں یہ ہچکچاہٹ دراصل صوبے میں بڑے گیم چینجر منصوبوں کے فقدان کی وجہ بنی ہے، جس نے براہِ راست پسماندگی کو دوام بخشا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان حکومت اپنی مالیاتی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرے۔ قرض لینا بذاتِ خود منفی عمل نہیں، بشرطیکہ اسے عوامی فلاح اور پیداواری اثاثوں کی تخلیق کے لیے استعمال کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لائیو اسٹاک، معدنیات اور باغات کے شعبوں میں انقلاب لانے کے لیے ٹھوس منصوبے بنائے اور ان کے لیے عالمی بینک یا ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے اداروں سے ایسے قرضے حاصل کرے جو براہِ راست عوام کی سماجی و اقتصادی حالت بدلنے میں معاون ہوں۔ اگر یہ سرمایہ کاری معدنیات کی ریفائننگ، پھلوں کی پیکجنگ اور لائیو اسٹاک کی برآمدات بڑھانے پر صرف کی جائے تو بلوچستان نہ صرف اپنا قرض اتارنے کی صلاحیت پیدا کر لے گا بلکہ ملکی معیشت کا انجن بن کر ابھرے گا۔ پسماندگی کے اندھیرے ختم کرنے کے لیے وسائل کو فعال بنانا ضروری ہے، اور اس کے لیے جرات مندانہ معاشی فیصلے ناگزیر ہیں۔