مقامی ۶ جون ۲۰۲۶

شاہرگ اور ہرنائی میں دہشت گردی و بدامنی کے خلاف “شہدا وطن تحریک” کا عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ عام

شاہرگ/ہرنائی(صداقت ویب)مئی کو ضلع ھرنائی کے شاھرگ کلی چونگی شیخ موسی’ بابا کے مقام پر دہشت گردوں کی جانب سے شاھرگ کے پانچ افراد مفتی زائد شاہ، ضیا الحق، قاھر خان، زمان شاہ، اکرام شاہ کو شہید کرنے اور 4 افراد کو زخمی کرنے سمیت مانگی کے مقام سے ہائی سکول ناکس کے استاد ملک شینگل خان ترین کو اغوا کرکے شہید کرنے کے واقعات کی خلاف، قاتلوں و دہشت گردوں کی گرفتاری اور ضلع ھرنائی شاھرگ میں جاری دہشتگردی،اغوا گردی، بھتہ خوری، بدامنی، لاقانونیت کے خاتمے، قانون کی حکمرانی، عوام کی جان و مال، تجارت و کاروبار کی تحفظ کیلئے سیاسی پارٹیوں، عوامی وسماجی اور قبائلی عمائدین پر مشتمل شہدا وطن تحریک کے زیر اہتمام شاھرگ میں عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ عام نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی جنرل سیکریٹری مزمل شاہ کی صدارت میں منعقد ھوا۔ جلسہ عام سے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی جنرل سیکریٹری مزمل شاہ، مرکزی لیبر سیکریٹری رشید حقمل ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ولی داد میانی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری حفیظ اللہ ترین، ڈسٹرکٹ کونسل ھرنائی کے چیئرمین ملک عبدالسلام ترین، جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مولوی عبدالحنان، پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر صدام خان ترین، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے ضلعی صدر حاجی دوران خان، عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام ضلعی صدر ملک زمان خان ترین، قبائلی وسماجی عمائدین ملک مہراللہ ترین، ملک نواب خان خمیس، ملک محمد نور ترین، حاجی محمد رفیق پیچی، معصوم خان ترین، شہدا کے لواحقین کی جانب سے مولوی عبدالصادق نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ملک وہاب خان کاکڑ نے سرانجام دی جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی فتح محمد شاہ نے حاصل کی۔مقررین نے شہدا شاھرگ کو وطن اور ضلع ھرنائی کے عوام کی دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشتگردی کے ان واقعات میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری، ضلع ھرنائی شاھرگ میں جاری دہشتگردی، اغوا گردی، بھتہ خوری، بدامنی و لاقانونیت کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا اور سیاسی و عوامی طاقت سے حکمرانوں کو عوام دشمن پالیسی ترک کرنے پر مجبور کرنے اور اتحاد و اتفاق، سیاسی بیداری کے ذریعے جمہوری مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔مقررین نے کہا کہ ضلع ھرنائی کے تمام علاقے اور شاھراوں اور کول مائینز ایریاز پر وفاقی حکومت کی فورسز ایف۔ سی اور حکومتی خفیہ ایجنسیوں کا کنٹرول ھے جس پر سالانہ عوامی خزانے سے اربوں روپے کے اخراجات ھوتے رھے ہیں لیکن اس کے باوجود ایف۔ سی کے زیر کنٹرول ایریاز میں عوام کے خلاف دہشتگردی، اغوا برائے تاوان، ٹرانسپورٹ، مائینز مشینری کو جلانے، بدامنی کے واقعات تواتر سے جاری ھے اور گزشتہ چند سالوں کے دوران سینکڑوں عوام، سیاسی کارکن، مائینز اونرز، ٹھیکدار دہشتگردی کا شکار ھوئے ہیں، درجنوں ٹرک، مائینز مشینری تباہ کرکے عوام کو اربوں روپے کے نقصانات دیے گئے ہیں اور ضلع کے عوام کی زندگی اجیرن بنادی گئی ھے۔مقررین نے کہا کہ ان تمام حقائق و شواہد اور صورتحال کی بنیاد پر تمام عوام، سیاسی پارٹیاں اور باشعور حلقوں کا مشترکہ موقف بنا ھے کہ صوبے کے دیگر علاقوں کی طرح ضلع ھرنائی شاھرگ میں جاری دہشتگردی و تخریب کاری کے واقعات ریاستی سرپرستی اور پشتون دشمن ریاستی پالیسی کا حصہ ھے اور اس فاشسٹ پالیسی کے تحت مختلف ناموں سے مسلح گروپس قائم کرکے ان کی ھر سطح پر سرپرستی کی جارھی ھے جس کے تحت عوام کو دہشت زدہ و خوفزدہ کرکے معدنی و ابی وسائل، تیل و گیس کے ذخائر، سرسبز و شاداب پہاڑوں، سیاحتی مقامات پر ملکی و عالمی سامراجی کمپنیوں کا غیر آئینی و غیر قانونی قبضہ جمانا ھے۔مقررین نے کہا کہ دہشتگردی، اغوا گردی، بھتہ خوری، بدامنی و لاقانونیت کے خاتمے اور امن و امان، قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور شہدا شاھرگ کو انصاف دلانے کیلئے جاری جمہوری احتجاجی و مزاحمتی تحریک کو جنوبی پتونخوا اور صوبے کے دیگر علاقوں اور جمہوری سیاسی پارٹیوں کی مرکزی و صوبائی قیادت سے جوڑ کر آگے بڑھائینگے۔مقررین نے شہدا شاھرگ اور شینگل خان ترین کو حکومتی سطح پر شہید قرار دینے، ضلع ھرنائی میں سیکورٹی فورسز، ایف، سی، خفیہ ایجنسیوں کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کے فوری خاتمے، سول اداروں کے اختیارات و فرائض عملی بنانے اور شہدا وطن و شاھرگ احتجاجی تحریک کے کمیٹی کے برحق مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔