قلات(صداقت ویب)پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما، سابق ایم این اے و سینیٹر محترمہ بی بی روبینہ عرفان کریم نے قلات ڈویژن کے نام کی تبدیلی کے مجوزہ فیصلے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ قلات ڈویژن کا نام تبدیل کرنا کسی بھی صورت قبول نہیں، کیونکہ قلات بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، تہذیب اور سیاسی شناخت کا مرکز رہا ہے۔ لہذا، قلات ڈویژن کے نام کا خاتمہ عوامی خواہشات، تاریخی حقائق اور علاقائی تشخص کے سراسر منافی اقدام ہوگا۔ قلات محض ایک انتظامی یونٹ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک عظیم تاریخی ورثے کا امین ہے؛ ریاستِ قلات برصغیر کی اہم ترین ریاستوں میں شمار ہوتی رہی ہے اور بلوچستان کی سیاسی و انتظامی تاریخ میں اس کا کردار ہمیشہ ناقابلِ فراموش رہا ہے۔محترمہ بی بی روبینہ عرفان نے اپنے بیانیے میں مزید کہا کہ قلات کا نام بلوچستان کی شناخت، روایات اور تاریخی عظمت کی علامت ہے، جسے کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قلات ڈویژن کے نام کو ختم کرنے کا کوئی بھی فیصلہ وہاں کے غیور عوام کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ ایسے اہم فیصلوں میں عوامی رائے، تاریخی پس منظر اور مقامی حساسیتوں کو مدِ نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے، اس لیے حکومت اس معاملے پر فوری نظر ثانی کرے اور قلات ڈویژن کی تاریخی حیثیت کا مکمل احترام کرے۔ قلات، مستونگ، سوراب اور دیگر علاقوں کے عوام اپنی تاریخی شناخت پر فخر کرتے ہیں اور اس کے تحفظ کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ قلات کی تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری، آئینی اور سیاسی فورم پر آواز بلند کی جائے گی، کیونکہ تاریخ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور وہ عوام کے ساتھ ہر سطح پر کھڑی رہیں گی۔
