مقامی ۶ جون ۲۰۲۶

ملازمین کے مسائل حل کیے بغیر بجٹ قبول نہیں کریں گے، پیر محمد کاکڑ

کوئٹہ(صداقت ویب) پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور کیسکو لیبر یونین بلوچستان کے صدر پیر محمد کاکڑ نے وفاقی اور صوبائی بجٹ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر کے محنت کش، مزدور، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور نچلے طبقے کے عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی اور صوبائی بجٹ میں محنت کشوں اور ملازمین کو حقیقی ریلیف نہ دیا گیا تو پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن اور دیگر مزدور تنظیمیں اس بجٹ کو کسی صورت قبول نہیں کریں گی۔پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ حکومت کی نجکاری، ڈاؤن سائزنگ اور ملازمین کے حقوق محدود کرنے کی پالیسیوں نے مزدور طبقے میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اداروں میں ہزاروں کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور عارضی ملازمین کو فوری طور پر مستقل کیا جائے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پنشنرز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، ان کی پنشن سے کی جانے والی کٹوتیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور پرانا پنشن نظام بحال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنشنرز نے اپنی پوری زندگی ریاستی اداروں کی خدمت میں گزاری ہے، اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔پیر محمد کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ موجودہ مہنگائی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور تمام الاؤنسز میں کم از کم 100 فیصد اضافہ کیا جائے جبکہ کم از کم اجرت بھی 100 فیصد بڑھائی جائے تاکہ مزدور طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ تنخواہیں مہنگائی کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہیں اور محنت کش طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی اداروں کی نجکاری کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے اور اداروں کو فروخت کرنے کے بجائے اصلاحات کے ذریعے مضبوط بنایا جائے۔