اسلام آباد ،کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان سمیت پسماندہ علاقوں کے لیے بڑے ترقیاتی فنڈز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں جاری شدید مالیاتی بحران اور وفاقی ترقیاتی پروگرام کے محدود ہونے کے باوجود، وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر بلوچستان کی اہم ترین این-25 شاہراہ کی تعمیر و توسیع کے لیے 125 ارب روپے کا خطیر فنڈ مختص کیا گیا ہے، جبکہ صوبے کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے الگ سے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے بھی 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے ملکی معاشی صورتحال اور ترقیاتی بجٹ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سال 2018 کے بعد سے وفاق کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جس کے باعث وفاقی ترقیاتی پروگرام اب بھی 2018 کی سطح یعنی صرف ایک ہزار ارب روپے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملکی تاریخ میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے خطرناک حد تک کم ہو کر محض 0.6 فیصد رہ گئی ہے۔ اس وقت ملک میں 5 ہزار ارب روپے کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام جاری ہے، جبکہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے مجموعی طور پر 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مختلف وزارتوں نے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 3 ہزار ارب روپے کے فنڈز کا تقاضا کیا تھا، مگر وسائل کی عدم دستیابی کے باعث اس صورتحال میں صرف انتہائی اہم اور منتخب منصوبوں پر ہی کام کیا جا سکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس سے ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبے امیر ہو گئے ہیں، جبکہ وفاق کے پاس گنجائش محدود ہو چکی ہے۔ احسن اقبال نے عزم ظاہر کیا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے 720 ارب روپے کے نئے منصوبے بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
