کوئٹہ (صداقت نیوز) ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خطے کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں اپنے قریبی شراکت دار ممالک چین اور روس کے لیے خصوصی تجارتی و بحری سہولتوں کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے حالیہ سفارتی مشاورتی اجلاس تعمیری اور اہم رہے ہیں۔ تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جاری بین الاقوامی مذاکرات میں افزودہ یورینیئم کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا اور نہ ہی امریکا کے ساتھ کسی رابطے میں اس موضوع پر بات ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکا سفارت کاری کے ساتھ غداری کر رہ ہے، جبکہ ان کے بقول آبنائے ہرمز میں بحری دباؤ اور پسِ پردہ مذاکرات میں سخت شرائط سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کسی پائیدار اور منصفانہ معاہدے میں سنجیدہ نہیں۔
