پاکستان ۲۹ مئی ۲۰۲۶

نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کی تنخواہوں میں اضافے کا امکان

اسلام اباد (صداقت نيوز)آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کو ریلیف دینے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، تاہم تنخواہوں اور پنشن میں کسی بھی اضافے کو وفاقی کابینہ اور آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تقریباً 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ 2022 سے 2025 کے دوران دیے گئے چار ایڈہاک الاؤنسز میں سے ایک کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ مزید یہ کہ ماہانہ ایک سے دو لاکھ روپے آمدن والے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے، گریڈ 20 سے 22 کے افسران کے کنوینس الاؤنس میں 50 سے 75 فیصد اضافے، اور گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کے لیے ڈسپیرٹی الاؤنس کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق پنشنرز کے لیے گزشتہ دو سال کی اوسط مہنگائی کے تناسب سے 80 فیصد تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے آمدن والے طبقے کے انکم ٹیکس میں کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دوگنا اضافے اور آئندہ مالی سال سے مسلح افواج کو کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔