مقامی ۲۴ مئی ۲۰۲۶

شٹل سروس کے مسافر سیکیورٹی اہلکاروں نے کوئٹہ سے جعفر ایکسپریس کے ذریعے پشاور جانا تھا، ریلوے حکام

کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)کوئٹہ ریلوے حکام نے چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے ہولناک دھماکے کے حوالے سے بی بی سی کو اہم تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ شٹل ٹرین کے ذریعے مسافروں کو کینٹ اسٹیشن سے سٹی ریلوے اسٹیشن لایا جا رہا تھا۔ ان مسافروں نے سٹی اسٹیشن پہنچ کر پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس میں سوار ہونا تھا اور وہاں سے اپنے طویل سفر کا آغاز کرنا تھا۔ حکام کے مطابق، ٹرین میں سوار مسافروں میں زیادہ تر سرکاری ملازمین اور سیکیورٹی اہلکار شامل تھے، جو عیدالاضحی کی چھٹیوں کے سلسلے میں اپنے آبائی علاقوں کی طرف جا رہے تھے کہ بدقسمتی سے اس بزدلانہ حملے کا شکار ہو گئے۔ریلوے ذرائع نے مزید بتایا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ریلوے ٹریک کے اطراف واقع درجنوں مکانات اور گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اور ان گھروں کے اندر موجود بعض افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ حادثے کے فورا بعد ریلوے انتظامیہ کی جانب سے جائے وقوعہ پر بھاری کرین پہنچا دی گئی ہے، جس کے ذریعے پٹری سے اتری اور الٹ جانے والی بوگیوں کو ٹریک سے ہٹانے کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ ریلوے لائن کو جلد بحال کیا جا سکے۔ دوسری جانب، تمام ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم سیکیورٹی اور حساس صورتحال کے پیشِ نظر ہسپتال کے اندر میڈیا نمائندگان کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔