مقامی ۲۲ مئی ۲۰۲۶

خضدار میں موبائل انٹرنیٹ بندش کو ایک سال مکمل، مواصلاتی نظام کی بدترین صورتحال سے عوام شدید پریشان

خضدار(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) خضدار میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش اور ناقص مواصلاتی سہولیات کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، مگر تاحال عوام کے یہ سنگین مسائل حل نہ ہو سکے۔ شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے خضدار کو نجی انٹرنیٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ علاقے سے منتخب نمائندے، ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق نجی انٹرنیٹ کمپنیاں صارفین سے من مانی فیسیں اور بھاری رقم وصول کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ دوسری جانب سرکاری ادارہ پی ٹی سی ایل بھی صرف من پسند اور بااثر افراد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔شہریوں کا الزام ہے کہ جہاں سفارش اور بااثر تعلقات ہوں، وہاں چند گھنٹوں میں انٹرنیٹ کنکشن فراہم کر دیا جاتا ہے جبکہ عام لوگ برسوں سے انتظار کی فہرست میں شامل ہیں۔ پہلے عوام کو “فلیش فائبر” کے نام پر لارے لپے دیے گئے، مگر اب وہی فلیش فائبر بھی مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اور کئی علاقوں میں لوگ باقاعدگی سے بل جمع کروانے کے باوجود انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ انٹرنیٹ کی اس طویل بندش اور ناقص ترین سروس کی وجہ سے مقامی کاروباری طبقہ، آن لائن کام کرنے والے، طلبہ اور بیرونِ ملک مقیم افراد کے لواحقین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں انٹرنیٹ نہ ہونے سے ان کا تعلیمی مستقبل تباہ ہو رہا ہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم افراد اپنے اہل خانہ سے رابطے کے لیے ترس گئے ہیں۔شہریوں نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پورے پاکستان میں اب جدید انٹرنیٹ سروسز متعارف ہو رہی ہیں، وہاں خضدار کے عوام کو آج کے دور میں بھی ٹو جی (2G) اور تھری جی (3G) جیسی انتہائی کمزور اور ناکارہ سروسز پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ دنیا جہاں جدید ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہی ہے، وہیں خضدار کے شہری بنیادی آئینی و مواصلاتی حق سے محروم ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلی بلوچستان، پی ٹی اے حکام اور مقامی اراکینِ اسمبلی سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دفاتر اور گھروں سے باہر نکل کر عوام کی اس سنگین تکلیف کا جائزہ لیں اور خضدار میں انٹرنیٹ کے مسائل کے فوری و مستقل حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں۔