مقامی ۲۲ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان ہائیکورٹ کا ہرنائی اور سنجاوی شاہراہ منصوبوں میں تاخیر پر اظہار برہمی

کوئٹہ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) محمد کامران خان ملاخیل اور گل حسن ترین پر مشتمل بلوچستان ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے عبدالرحیم زیارتوال کی آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی اور ہرنائی۔سبی شاہراہ منصوبوں پر پیش رفت رپورٹس کا جائزہ لیا۔ عدالت کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی منصوبے کا ڈیزائن اور ٹینڈر دستاویزات مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی 2025-26 میں 200 ملین روپے کی ٹوکن رقم مختص کی جا چکی ہے۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ہرنائی تا سبی روڈ براستہ اسپن تنگی منصوبے کا پی سی ون نظرثانی کے مراحل میں ہے اور تیسرے فریق کی توثیق تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی منصوبہ مکمل طور پر وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت این ایچ اے کے ذریعے مکمل کیا جائے گا جبکہ ہرنائی۔سبی روڈ منصوبے کے لیے 80/20 فنڈ شیئرنگ فارمولہ تجویز کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس تجویز پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومت اس اہم منصوبے میں سنجیدہ دلچسپی نہیں لے رہی اور مالی بوجھ وفاق پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر منصوبوں کی نگرانی کریں اور فنڈ شیئرنگ فارمولے کو جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ پی سی ون منظوری اور ٹینڈرنگ کا عمل بروقت مکمل ہو سکے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 جولائی 2026 تک ملتوی کر دی۔