مقامی ۲۰ مئی ۲۰۲۶

مزدور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، پیر محمد کاکڑ

کوئٹہ(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری اور کیسکو لیبر یونین بلوچستان کے صدر پیر محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ کان کن محنت کش ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور قومی ترقی، صنعتی استحکام اور توانائی کے شعبے کی مضبوطی میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی کان کن مزدور انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں اپنی خدمات سرانجام دینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، مائنز مالکان اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ کان کنوں کو محفوظ ماحول، جدید حفاظتی سہولیات اور باعزت روزگار فراہم کیا جائے تاکہ وہ تحفظ اور اعتماد کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئلہ مائنز کے کان کن محنت کشوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، جس نے انہیں مائنز میں پیش آنے والے مختلف مسائل، حادثات، کم اجرت، طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور بنیادی انسانی ضروریات سے متعلق مشکلات سے آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ بلوچستان کے مختلف کوئلہ کانوں میں آج بھی مزدور غیر محفوظ حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ حادثات کی صورت میں فوری امداد اور علاج معالجے کی مناسب سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں۔ پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ مائنز میں آئے روز پیش آنے والے جان لیوا حادثات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی قوانین پر مثر انداز میں عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام کوئلہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، گیس چیکنگ آلات، معیاری اوزار، حفاظتی ہیلمٹس، ماسک اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کان کن مزدوروں کیلئے ہنگامی طبی مراکز، ایمبولینس سروس اور فوری ریسکیو نظام قائم کرنا بھی ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے مجوزہ مائنز اینڈ منرلز بل 2025 اور مائنز ایکٹ 1923 میں مجوزہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قانون سازی سے قبل مائنز مالکان، کنٹریکٹرز، مزدور تنظیموں اور مائنز ورکرز کے حقیقی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تاکہ ایسا قانون تشکیل دیا جا سکے جو مزدوروں کے حقوق، تحفظ اور فلاح کو یقینی بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کشوں سے متعلق فیصلے بند کمروں میں کرنے کے بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیے جائیں۔ پیر محمد کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ تمام مائنز ورکرز کو فوری طور پر ای او بی آئی میں رجسٹرڈ کیا جائے تاکہ انہیں پنشن، علاج اور دیگر قانونی سہولیات حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کیلئے بہتر رہائش، صاف پانی، بجلی، تعلیم اور طبی سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ کان کن صرف مزدور نہیں بلکہ ملک کی ترقی کا اہم سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کان کن مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔