کوئٹہ(ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے صدر ، معروف ٹرانسپورٹر ” حبیب اللہ خان بادیزئی” نے ٹرانسپورٹروں کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل، حکومتی بالخصوص سیکورٹی اداروں کے عدم تعاون اور قومی شاہراہوں پر امن و امان کی مخدوش صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں بس مالکان اور ٹرانسپورٹرز شدید ذہنی دبا اور مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ آئے روز قومی شاہراہوں پر ڈکیتی، لوٹ مار، بھتہ خوری اور مسافروں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ٹرانسپورٹروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ مسافروں کی جان و مال بھی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔کوئٹہ میں صحافیوں کے گروپ سے بات چیت کرتے ھوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزانہ لاکھوں افراد ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتے ہیں جبکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی انہی شاہراہوں کے ذریعے ممکن ہوتی ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اہم شعبے کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔سیکورٹی اداروں کی جانب سے چیک پوسٹوں پر غیر ضروری تاخیر، سخت رویہ اور عدم تعاون نے ٹرانسپورٹروں کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ پابندیاں، بلاجواز چالان، اور اضافی جرمانے ٹرانسپورٹروں کے لیے ناقابل برداشت بنتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، اسپیئر پارٹس کی مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ ہے، تو دوسری جانب شاہراہوں پر عدم تحفظ نے کاروبار کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر قومی شاہراہوں پر موثر سیکیورٹی اقدامات یقینی بنائے، چیک پوسٹوں پر ٹرانسپورٹروں کے ساتھ عزت و احترام کا سلوک کیا جائے اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹر برادری کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرانسپورٹرز کو دیوار سے لگانے کی پالیسی نہ اپنائی جائے کیونکہ اس کے اثرات براہ راست عوام اور معیشت پر پڑیں گے۔
