مقامی ۱۹ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان ہائی کورٹ کا سمنگلی اور سریاب سروس روڈ فوری مکمل کرنے کا حکم، جوائنٹ روڈ پر متنازعہ پلاٹس کی بولی روک دی گئی

کوئٹہ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئٹہ شہر کی خوبصورتی، سڑکوں کی توسیع، ٹریفک مینجمنٹ اور ریلوے اراضی پر کمرشل تعمیرات سے متعلق دائر الگ الگ آئینی درخواستوں پر انتہائی اہم سماعتیں ہوئیں۔ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک کی بدامنی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس جناب محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس جناب محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ معزز عدالت نے صوبائی دارالحکومت کے دو بڑے منصوبوں سمنگلی روڈ اور سریاب سروس روڈ کو فوری طور پر مکمل کرنے کا سخت حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو واضح ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے ان ترقیاتی منصوبوں میں اب کسی بھی قسم کی رکاوٹ، غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔سماعت کے دوران عدالت کے روبرو سمنگلی روڈ، زرغون روڈ اور امداد چوک کی بہتری کے حوالے سے جاری منصوبوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ بینچ نے ریلوے اسٹیشن اور کولون روڈ یوٹرنز پر پیدا ہونے والے شدید ٹریفک مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ، اور بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کو ہدایت کی کہ وہ شہر کا ایک مشترکہ اور جامع ٹریفک پلان مرتب کر کے عدالت میں جمع کرائیں۔ اس موقع پر بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے حکام نے ہائی کورٹ کے اطراف ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ معزز عدالت نے امداد چوک اور ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹریفک کے دبا کو کم کرنے کے لیے مجوزہ متبادل یوٹرنز کی جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران سمنگلی روڈ پر اسفالٹک(لک کی) تہہ بچھانے کے کام میں غیر معمولی تاخیر پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو پیش رفت رپورٹ باقاعدگی سے جمع کرانے اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو خصوصی کمیٹیوں میں ذمہ داریاں جاری رکھنے کا حکم دیا۔دوسری جانب، بلوچستان ہائی کورٹ میں جوائنٹ روڈ اور انسکمب روڈ پر کمرشل تعمیرات اور ریلوے اراضی کی لیز سے متعلق دائر آئینی درخواست پر چیف جسٹس جسٹس جناب محمد کامران خان ملاخیل کے روبرو سماعت ہوئی، جس میں پاکستان ریلوے اور ریڈامکو کے اعلی حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی احکامات کی روشنی میں جوائنٹ روڈ پر قیمتی اور متنازعہ پلاٹس کی اوپن بولی اور اس سے متعلقہ تمام تر کارروائی کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ ریڈامکو انتظامیہ نے علاقے کا جامع سروے کرنے اور ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے عدالت عالیہ سے مزید مہلت طلب کر لی ہے۔دورانِ سماعت عدالت میں یہ سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا کہ ایک فلنگ اسٹیشن پلاٹ کی لیز کے عوض 29.6 ملین روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ پاکستان ریلوے کے حکام نے معزز عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ جوائنٹ روڈ پر تمام تر کمرشل تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رکھی جائیں گی۔ دوسری جانب درخواست گزار نے عدالت کی توجہ جوائنٹ روڈ پر دوبارہ دکانوں کی تعمیر کی جانب مبذول کرائی اور مقف اختیار کیا کہ دکانوں کی یہ اراضی سال 2024-25 میں لیز پر دی گئی تھی۔ ریلوے حکام نے واضح کیا کہ اب ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ این او سی اور تفصیلی سروے کے بعد ہی کوئی اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر میں فریقین کا مشترکہ اجلاس طلب کرتے ہوئے ڈی ایس پاکستان ریلوے محمود الرحمن لاکھو کو آئندہ سماعت تک ذاتی پیشی سے استثنی دے دیا، اور دونوں اہم کیسز کی مزید سماعت 4 جون 2026 تک کے لیے ملتوی کر دی۔