کوئٹہ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور شاہ، ڈاکٹر ارشاد اور ان کے ساتھی اسٹاف ممبر کے مکران سے مبینہ اغوا کے خلاف صوبے بھر کی جامعات میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن یونیورسٹی آف بلوچستان اور فڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فاپواسا) بلوچستان چیپٹر کے مشترکہ اعلان پر آج صوبے کی تمام بڑی جامعات بشمول یونیورسٹی آف بلوچستان، بیوٹمز (BUITEMS)، تربت یونیورسٹی، خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی، لورالائی یونیورسٹی، لسبیلہ یونیورسٹی، سبی یونیورسٹی اور گوادر یونیورسٹی میں اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکمل ‘یومِ سیاہ’ منایا۔یومِ سیاہ کے موقع پر تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور ملازمین نے ہاتھوں پر کالی پٹیاں باندھ کر تدریسی عمل کے دوران اپنا پرامن اور ریکارڈ احتجاج درج کرایا۔ احتجاجی اساتذہ اور فاپواسا کے عہدیداران کا بنیادی مطالبہ تھا کہ حکومتِ بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مغوی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور دیگر پروفیسرز کو فوری اور باحفاظت بازیاب کرائیں، اور صوبے میں اساتذہ، آفیسران سمیت عام شہریوں کو فول پروف تحفظ فراہم کیا جائے۔ مقررین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں آئے روز اساتذہ و دانشوروں کے اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں، جس سے تعلیمی نظام مفلوج ہو رہا ہے، لہذا حکومت تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے لیے فوری اقدامات کرے۔مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے قائدین نے بتایا کہ کل بروز بدھ، 20 مئی کو یونیورسٹی آف بلوچستان سمیت صوبے بھر کی تمام سرکاری جامعات میں مغوی اساتذہ کی بازیابی کے لیے دن 11 بجے وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور فاپواسا نے تمام اساتذہ کرام، ملازمین، آفیسران، طلبہ و طالبات اور باشعور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کل دن 11 بجے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کر کے اساتذہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں تاکہ حکومت پر دبا بڑھایا جا سکے۔
