مقامی ۱۹ مئی ۲۰۲۶

ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں من مانا اضافہ روکنے کے لیے کوئٹہ ضلعی انتظامیہ کا بڑا ایکشن

کوئٹہ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے شہر میں ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے عوام کو بڑا ریلیف فراہم کر دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر )اے ڈی سی( جنرل کوئٹہ انور کاکڑ کی بروقت اور موثر مداخلت کے بعد شہر بھر میں ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کیے جانے والے مصنوعی اضافے کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں، جس پر رکشہ مالکان، ٹیکسی ڈرائیورز اور عام شہریوں نے ضلعی انتظامیہ خصوصا اے ڈی سی جنرل انور کاکڑ کا شکریہ ادا کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، گزشتہ رات تک کوئٹہ شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ایرانی پٹرول 270 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا تھا، تاہم صبح ہوتے ہی مختلف پٹرول پمپس اور فروخت کے مراکز پر اس کی قیمت اچانک بڑھا کر 290 روپے فی لیٹر تک کر دی گئی۔ قیمتوں میں اس اچانک اور بلاجواز اضافے سے شہریوں اور ٹرانسپورٹرز میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی، جنہوں نے ضلعی انتظامیہ سے اس لوٹ مار کے خلاف فوری کارروائی کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔یو این اے کے مطابق، عوامی شکایات موصول ہوتے ہی اے ڈی سی جنرل انور کاکڑ نے معاملے کی سنگینی کا فوری نوٹس لیا اور متعلقہ مجسٹریٹس و حکام کو ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور نرخوں کی نگرانی سخت کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انتظامیہ کی خصوصی چیکنگ ٹیموں نے شہر کے مختلف علاقوں میں پٹرول فروخت کرنے والے مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا اور من مانے نرخ وصول کرنے والے عناصر کو سخت تنبیہ کی، جس کے بعد قیمتوں میں استحکام آنے کی واضح توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ٹرانسپورٹرز اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایرانی پٹرولیم مصنوعات غریب صارفین، رکشہ و ٹیکسی ڈرائیورز کے لیے ایک سستا متبادل ہیں، تاہم اس کی قیمتوں میں من مانا اضافہ ان کے روزگار اور گھریلو بجٹ پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور قیمتوں کی مستقل نگرانی کا موثر نظام وضع کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی مافیا مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے قیمتیں نہ بڑھا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفادات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور من مانی قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف آئندہ بھی سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔