مقامی ۱۹ مئی ۲۰۲۶

انتظامی حدود میں تبدیلیاں تاریخی تشخص اور عوامی مرضی پر حملہ ہیں، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا نوٹیفکیشن مسترد

کوئٹہ( (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل))پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ ایک سخت مذمتی پریس ریلیز میں فارم 47 کی بنیاد پر قائم صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے کے مختلف ڈویژنز، اضلاع اور انتظامی یونٹس کے ناموں، حدود اور جغرافیائی ساخت میں عوامی مرضی کے برعکس تبدیلیوں کے نوٹیفکیشن کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ پارٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ فیصلے نہ صرف متعلقہ اضلاع اور ڈویژنز کی تاریخی، جغرافیائی اور قومی شناخت پر براہِ راست حملہ ہیں بلکہ یہ ایک منظم سیاسی سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد یہاں آباد قوموں کی قومی وحدت، تاریخی تشخص، انتظامی حیثیت اور بنیادی قومی حقوق کو کمزور کرنا ہے۔ کوئٹہ ڈویژن میں ضلع مستونگ کو وہاں کے عوام کی مرضی کے برخلاف شامل کرنے، ضلع زیارت کو سبی ڈویژن سے نکالنے، سبی کے تاریخی نام کو تبدیل کرنے اور سبی ڈویژن میں کچھی کو شامل کرنے جیسے اقدامات زمینی حقیقتوں کے سراسر منافی ہیں اور عوامی رائے کو نظر انداز کر کے زبردستی فیصلے مسلط کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی حکمران قوتوں نے پشتون اور بلوچ عوام کے درمیان تقسیم، بداعتمادی، انتشار اور نفرت پیدا کرنے کے لیے ایسے غیر جمہوری اقدامات کیے، مگر باشعور عوام نے ہمیشہ ان سازشوں کو ناکام بنایا۔ بیان کے مطابق، ضلع زیارت روزِ اول سے سبی ڈویژن کا حصہ رہا ہے اور تاریخی طور پر سردیوں میں سبی ڈویژنل مرکز جبکہ گرمیوں میں زیارت ڈویژنل مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ زیارت کی اپنی صدیوں پرانی تاریخی و ثقافتی حیثیت ہے اور یہاں کے پشتون افغان عوام اس سرزمین کے حقیقی وارث ہیں، لہذا زیارت کو سبی ڈویژن سے نکالنے کا فیصلہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ مزید برآں، ضلع سبی میں پہلے ہی غیر فطری طور پر لہڑی کا علاقہ شامل کیا گیا ہے جس کا سبی سے کبھی بھی تعلق نہیں رہا، لہذا پارٹی کا مطالبہ ہے کہ لہڑی کو بھی ضلع سبی سے فوری نکالا جائے۔ اسی طرح ضلع مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنا سراسر زیادتی اور عوامی حقوق پر حملہ ہے جس کی تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین نے مخالفت کی ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ عوامی امنگوں کو نظر انداز کر کے کیے جانے والے فیصلے غیر آئینی ہیں اور ان سے صوبے میں مزید بے چینی اور سیاسی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ان متنازع فیصلوں اور نوٹیفکیشن کو واپس نہ لیا تو اس کے خلاف بھرپور عوامی، سیاسی اور جمہوری احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ پارٹی اس سلسلے میں صوبے کی تمام سیاسی و جمہوری جماعتوں، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات، وکلا، طلبہ تنظیموں اور باشعور عوام سے رابطے قائم کرے گی تاکہ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ان عوام دشمن اقدامات کے خلاف مثر تحریک چلائی جا سکے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ ان فیصلوں کو بہت جلد عدالت عالیہ میں بھی چیلنج کیا جائے گا اور ہر آئینی و سیاسی فورم پر عوام کے حقوق کا دفاع جاری رکھا جائے گا۔