کوئٹہ(ویب نیوز) گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کو فعال نہ ہونے دینے کا تاثر حقائق کے منافی ہے، گوادر میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں اور صنعتکار و سرمایہ کار ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے گوادر پورٹ اتھارٹی سے رابطہ کر رہے ہیں۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گوادر ایسٹ اور ساؤتھ فری زونز میں صنعتوں کے قیام کے لیے مناسب نرخوں پر زمین دستیاب ہے، جبکہ الاٹمنٹ کے بعد دو سال کے اندر صنعت قائم کرنا لازمی ہوگا۔ ان کے مطابق گوادر پورٹ کے چارجز خطے کے کئی دیگر بندرگاہوں کے مقابلے میں کم ہیں، جبکہ گوادر گبد کے راستے ایران کے لیے منظور شدہ ٹرانزٹ روٹ اور تاشقند تک تقریباً 2700 کلومیٹر طویل رابطہ کاری کے منصوبے سے منسلک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر فری زون میں مختلف ٹیکس مراعات دستیاب ہیں اور ساحلی علاقوں کے درمیان رابطے کے لیے کوسٹل فیری سروس کے قواعد منظور ہوچکے ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گوادر میں قائم پلانٹ یومیہ 12 لاکھ گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کوئٹہ چیمبر سے گوادر میں دفتر قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں شہروں کی کاروباری برادری کے درمیان رابطے مضبوط ہوں گے۔ اس موقع پر چیمبر کے عہدیداروں نے گوادر میں مقامی سرمایہ کاروں کو ترجیح دینے، واضح پالیسی، شفاف طریقہ کار اور طویل المدتی یقین دہانیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
