تازہ ترین ۸ اگست ۲۰۲۶

8 اگست: دس برس بعد بھی انصاف کا قرض باقی ہے

کوئٹہ سے انصاف کی ایک پوری نسل رخصت ہوئی، مگر اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کیا کیا گیا؟

تحریر: سید انورشاہ

8 اگست 2016ء بلوچستان کی تاریخ کا محض ایک المناک دن نہیں، بلکہ وہ سانحہ ہے جس نے صوبے کے نظامِ انصاف کی انسانی بنیادوں کو ایک ہی وار میں شدید نقصان پہنچایا۔ 2026ء میں اس سانحے کو دس برس مکمل ہو رہے ہیں، مگر سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جن لوگوں نے قانون، آئین اور انصاف کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں، ان کی قربانی نے ریاست اور حکومتوں کو کیا سبق دیا؟ کیا ہم نے اس عظیم نقصان کو صرف تعزیتی تقریبات، بیانات، پھولوں اور دعاؤں تک محدود کر دیا، یا واقعی اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کوئی ایسا جامع منصوبہ بنایا جس سے آنے والی نسلیں اس سانحے کے اثرات سے نکل سکتیں؟

8 اگست کی صبح بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کو فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔ ان کا جسدِ خاکی سول اسپتال کوئٹہ لایا گیا تو اپنے ساتھی، صدر اور عزیز کے آخری دیدار کے لیے بڑی تعداد میں وکلاء وہاں پہنچ گئے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ چند ہی لمحوں بعد یہی مقام بلوچستان کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک کا مرکز بننے والا ہے۔

پھر ایک دھماکہ ہوا۔

چند لمحوں میں سول اسپتال کا ماحول چیخوں، دھوئیں، خون اور انسانی جسموں سے بھر گیا۔ کالے کوٹ پہنے وہ لوگ جو دوسروں کے حقوق کے لیے عدالتوں میں کھڑے ہوتے تھے، خود زندگی اور موت کی جنگ میں مبتلا ہوگئے۔ اس حملے میں درجنوں افراد شہید ہوئے، جن میں بڑی تعداد وکلاء کی تھی۔ دستیاب سرکاری و عدالتی حوالوں میں 56 وکلاء کی شہادت اور بڑی تعداد میں وکلاء کے زخمی ہونے کا ذکر ملتا ہے۔

یہ کسی ایک پیشے سے وابستہ افراد کا نقصان نہیں تھا۔ یہ بلوچستان کے قانونی نظام کے انسانی سرمائے پر ایسا حملہ تھا جس کے اثرات کئی برس تک محسوس کیے گئے اور جن کا مکمل ازالہ شاید کبھی ممکن نہ ہو۔

ہر شہید وکیل ایک مکمل باب تھا

8 اگست کے سانحے میں شہید ہونے والا ہر وکیل بلوچستان کی قانونی تاریخ کا ایک اہم باب تھا۔ ان میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا نہ مناسب ہے اور نہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔ ہر شہید اپنی جگہ ایک مکمل شخصیت، ایک خاندان کا سہارا، عدالت میں کسی نہ کسی مظلوم کی آواز اور بلوچستان کے قانونی مستقبل کا حصہ تھا۔

ان شہداء میں تجربہ کار قانون دان بھی تھے اور نوجوان وکلاء بھی؛ بار کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے بھی تھے اور وہ لوگ بھی جو اپنے پیشہ ورانہ سفر کے ابتدائی مراحل میں تھے۔ کسی نے برسوں عدالتوں میں خدمات انجام دیں، کسی نے غریبوں کے مقدمات لڑے، کسی نے نوجوان وکلاء کی رہنمائی کی اور کسی کے سامنے ایک طویل قانونی زندگی کے امکانات موجود تھے۔ لیکن دہشت گردی نے کسی کی عمر، تجربے، قابلیت، پیشہ ورانہ حیثیت یا مستقبل کے امکانات میں کوئی فرق نہیں کیا۔

اسی لیے ان تمام شہداء کو کسی ایک یا چند ناموں تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ ہر شہید وکیل اہم تھا، ہر قربانی برابر تھی اور ہر خاندان کا نقصان ناقابلِ تلافی تھا۔

یہ صرف وکلاء کی ایک بڑی تعداد کی شہادت نہیں تھی؛ یہ بلوچستان کے قانونی نظام سے ایک ہی وقت میں تجربے، صلاحیت، علمی سرمایہ اور مستقبل کے امکانات کا ایک بڑا حصہ چھین لیے جانے کا سانحہ تھا۔

ہر شہید کے پیچھے ایک خاندان تھا، والدین تھے، بیوی اور بچے تھے، دوست اور شاگرد تھے اور ایسے سائلین تھے جو اپنے قانونی مسائل کے حل کے لیے ان پر اعتماد کرتے تھے۔

اس لیے 8 اگست کو یاد کرتے ہوئے ہماری ذمہ داری صرف شہداء کی تعداد یاد رکھنا نہیں بلکہ ہر ایک شہید کو برابر احترام کے ساتھ یاد رکھنا ہے۔ کسی ایک نام کو زیادہ نمایاں کرنا اور کسی دوسرے کا نام چھوڑ دینا غیر ضروری طور پر ترجیح یا تعصب کا تاثر پیدا کرسکتا ہے۔ شہداء کی عظمت ان کے ناموں کے باہمی تقابل میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شعبے سے تعلق رکھتے ہوئے جانیں قربان کیں جو معاشرے میں قانون، آئین اور انصاف کی آواز بننے کا ذریعہ ہے۔

8 اگست کے تمام شہید وکلاء بلوچستان کے یکساں قومی اور قانونی اثاثے ہیں۔ ان میں کسی کی قربانی بڑی یا چھوٹی نہیں؛ سب کا خون ایک ہی تاریخ کا حصہ ہے اور سب کا احترام یکساں ہونا چاہیے۔

یہ سانحہ دوسرے سانحات سے مختلف کیوں تھا؟

بلوچستان نے دہشت گردی کے بہت سے سانحات دیکھے ہیں۔ بازار، مساجد، اسکول، سکیورٹی ادارے، سرکاری مراکز اور عام شہری دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں، لیکن 8 اگست کی نوعیت قدرے مختلف تھی۔

یہ حملہ ایسے لوگوں پر ہوا جو خود قانون کے محافظ اور انصاف کے حصول کا ذریعہ تھے۔

عام شہری عدالت کا دروازہ اس امید کے ساتھ کھٹکھٹاتا ہے کہ وہاں اسے طاقتور کے مقابلے میں قانون کا سہارا ملے گا۔ وکیل اسی امید کو عملی شکل دیتا ہے۔ جب ایک ہی حملے میں قانونی برادری کی ایک پوری نسل کے بڑے حصے کو ختم کر دیا جائے تو اس کا اثر صرف بار روم یا عدالت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے انصاف کے نظام پر پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 8 اگست کو بلوچستان کی قانونی تاریخ پر ایک کاری ضرب قرار دینا کسی صورت مبالغہ نہیں۔

دس برس میں حکومتوں نے اس خلا کو کتنا پُر کیا؟

یہاں اصل سوال حکومتوں سے ہے۔

اگر ریاست نے تسلیم کیا تھا کہ 8 اگست نے بلوچستان کے قانونی نظام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا، تو پھر اس نقصان کے ازالے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟

شہداء کے خاندانوں کو مالی امداد دینا ایک ضروری ذمہ داری تھی اور ہے، لیکن کیا یہ کافی تھا؟

یقیناً نہیں۔

رقم ایک خاندان کی کچھ ضروریات پوری کرسکتی ہے، لیکن ایک باپ واپس نہیں لا سکتی۔ ملازمت یتیم بچے کی فیس ادا کرسکتی ہے، لیکن اس کے سر پر باپ کا ہاتھ نہیں رکھ سکتی۔ مالی پیکیج ایک گھر کو وقتی سہارا دے سکتا ہے، لیکن بلوچستان کے قانونی نظام سے چھینے گئے تجربے اور صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتا۔

اصل سوال یہ ہے کہ ریاست نے اس اجتماعی نقصان کا ادارہ جاتی ازالہ کیا یا نہیں؟

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دس برس گزرنے کے باوجود اس سوال کا جواب اطمینان بخش نہیں۔

بہترین انتقام علم ہوتا

8 اگست کے شہداء کا بہترین انتقام دہشت گردوں سے صرف بدلہ لینا نہیں تھا؛ بہترین انتقام یہ تھا کہ ان کی قربانی سے بلوچستان کے قانونی مستقبل کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا جاتا۔

حکومت کو چاہیے تھا کہ ایک خصوصی منصوبہ تشکیل دیتی جس کے تحت بلوچستان کے ہونہار نوجوان قانون دانوں کو سرکاری اخراجات پر دنیا کے بہترین لاء کالجز اور جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا جاتا۔

ہر سال میرٹ کی بنیاد پر نوجوان وکلاء کا انتخاب ہوتا۔ انہیں آئینی قانون، انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون، تجارتی قانون، عدالتی انتظام، قانونی تحقیق اور جدید قانونی علوم میں اعلیٰ تعلیم دی جاتی۔ پھر ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بلوچستان واپس لاکر بار، عدلیہ، جامعات اور سرکاری قانونی اداروں میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کا موقع دیا جاتا۔

اگر گزشتہ دس برس میں ایسا پروگرام مسلسل جاری رہتا تو آج بلوچستان کے پاس عالمی معیار کی قانونی تعلیم حاصل کرنے والے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں نوجوان ماہرین موجود ہوتے۔

یہ 8 اگست کے شہداء کے لیے سب سے باوقار، مؤثر اور دیرپا خراجِ عقیدت ہوتا۔

مگر افسوس کہ عملی اقدامات کے بجائے زیادہ تر زبانی جمع خرچ، تعزیتی بیانات اور سالانہ تقریبات ہی نظر آئیں۔

ہر ضلع میں شہداء کے نام سے ادارہ کیوں نہیں؟

حکومت چاہتی تو بلوچستان کے ہر ضلع میں 8 اگست کے شہداء کے نام سے لاء کالج، قانونی تحقیق کا مرکز، اسکالرشپ پروگرام یا اعلیٰ تعلیمی ادارہ قائم کرسکتی تھی۔

تصور کیجیے کہ کسی ضلع میں ایک جدید لاء کالج قائم ہوتا، جس کے دروازے پر 8 اگست کے شہداء کا نام درج ہوتا اور ہر سال سیکڑوں نوجوان وہاں قانون کی تعلیم حاصل کرتے۔ کسی دوسرے ضلع میں شہداء کے نام سے اسکالرشپ قائم ہوتی اور وہاں کا غریب طالب علم دنیا کی کسی بہترین یونیورسٹی میں پہنچتا۔

اس طرح شہداء کے نام صرف یادگاروں اور تختیوں پر نہیں رہتے بلکہ ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل میں زندہ رہتے۔

مگر دس برس گزرنے کے بعد بھی یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے:

8 اگست کے شہداء کے نام پر ایسا کون سا بڑا اور مستقل ادارہ قائم کیا گیا جس نے بلوچستان کے قانونی مستقبل کو تبدیل کردیا ہو؟

اگر جواب خاموشی ہے تو پھر حکومتوں کو اس خاموشی کی وجہ عوام کو بتانی چاہیے۔

انصاف کے ادارے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیوں نہ ہوا؟

8 اگست کی سب سے بڑی تباہی صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں تھی۔ اس حملے نے بلوچستان کے اس طبقے کو شدید متاثر کیا جو انصاف کے نظام کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتا تھا۔

عدالتیں اپنی جگہ موجود تھیں، قوانین اپنی جگہ موجود تھے، مگر قانون کو عدالت میں مؤثر انداز میں پیش کرنے، آئینی نکات پر بحث کرنے، شہری حقوق کا مقدمہ لڑنے اور نئی نسل کی رہنمائی کرنے والے تجربہ کار افراد کا بڑا حصہ ایک ہی سانحے میں ختم ہوگیا۔

یہ خلا ایک دن، ایک سال یا ایک سرکاری نوٹیفکیشن سے پُر نہیں ہوسکتا تھا۔

اس کے لیے ایک طویل المدت قانونی انسانی وسائل کی پالیسی درکار تھی۔

لیکن حکومتوں نے اس کمی کو پوری کرنے کے لیے وہ غیر معمولی کوشش نہیں کی جس کی اس غیر معمولی سانحے کے بعد ضرورت تھی۔

یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایک ایسے نقصان کو نظرانداز کرنا ہے جس کا تعلق براہِ راست بلوچستان کے انصاف کے مستقبل سے تھا۔

انکوائری، ذمہ داری اور احتساب

8 اگست کے سانحے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم ہوا۔ کمیشن نے سکیورٹی اور حکومتی انتظامات سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔

مگر دس برس بعد بھی ایک بنیادی سوال عوام کے سامنے موجود ہے:

کیا صرف انکوائری کافی تھی یا اس کے نتائج کی روشنی میں ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے تھی؟

ریاستی اداروں کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ سانحے کے بعد امدادی کارروائی کریں۔ اصل ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ایسی خامیوں کی نشاندہی کی جائے جنہوں نے دہشت گردوں کو اتنے بڑے ہدف تک پہنچنے کا موقع دیا۔

اگر کسی سطح پر غفلت ہوئی تو اس کا تعین ہونا چاہیے تھا۔ اگر سکیورٹی نظام میں خامی تھی تو اسے دور کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر انٹیلی جنس کی ناکامی تھی تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے تھی۔

احتساب کے بغیر انکوائری اکثر فائل کا حصہ بن جاتی ہے، اصلاح کا ذریعہ نہیں۔

شہداء کی قربانی کا اصل مطلب

8 اگست کے شہداء سے اگر آج کے وکلاء کوئی سبق لیں تو وہ یہ ہے کہ قانون کی بالادستی آسان راستہ نہیں۔

ان شہداء نے اپنی زندگیاں ایسے معاشرے کے لیے وقف کی تھیں جہاں قانون کمزور کا بھی اتنا ہی محافظ ہو جتنا طاقتور کا۔

اگر آج بھی غریب شخص انصاف کے لیے سالہا سال عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہے، اگر مقدمات طویل ہوتے چلے جاتے ہیں، اگر طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کا معیار مختلف محسوس ہوتا ہے تو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ شہداء کے مشن کو ابھی منزل نہیں ملی۔

8 اگست ہمیں صرف رونے یا پھول چڑھانے کے لیے نہیں آتا۔

یہ دن ہم سے سوال کرتا ہے:

کیا ہم نے ان کی قربانی سے کچھ سیکھا؟

اگر جواب ہاں ہے تو پھر اس کا ثبوت تقریروں میں نہیں، اداروں میں نظر آنا چاہیے۔

دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف اعتماد ہوتا ہے

دہشت گرد صرف انسان نہیں مارتا۔ وہ معاشرے کا اعتماد بھی قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ شہری کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ریاست اسے تحفظ نہیں دے سکتی، عدالت اسے انصاف نہیں دے سکتی اور قانون طاقتور کے سامنے بے بس ہے۔

اسی لیے دہشت گردی کا اصل جواب ایک ایسا مضبوط ریاستی نظام ہے جہاں پولیس مؤثر ہو، تفتیش شفاف ہو، عدالت آزاد ہو، وکیل محفوظ ہو، صحافی اپنا فرض ادا کرسکے اور شہری کو یقین ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی کی صورت میں ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

8 اگست کے شہداء کے لیے اس سے بڑا خراجِ عقیدت اور کوئی نہیں کہ بلوچستان میں قانون طاقتور کا تابع نہ رہے بلکہ طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے برابر ہو۔

دس سال بعد ایک فیصلہ کن سوال

2026ء میں 8 اگست کو دس برس مکمل ہورہے ہیں۔

دس سال کسی ریاست کے لیے کم مدت نہیں ہوتی۔

ان دس برسوں میں کئی حکومتیں آئیں، کئی بجٹ بنے، کئی منصوبے شروع ہوئے اور کئی اعلانات ہوئے۔ مگر شہداء کے قانونی ورثے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع، مستقل اور قابلِ پیمائش منصوبہ اب بھی وقت کی ضرورت ہے۔

اب بھی دیر نہیں ہوئی۔

حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ:

8 اگست کے شہداء کے نام سے بلوچستان لیگل ایکسیلنس اسکالرشپ پروگرام قائم کرے۔

ہر سال ہونہار نوجوان وکلاء کو دنیا کے ممتاز قانونی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے سرکاری وظائف دیے جائیں۔

صوبے کے مختلف اضلاع میں شہداء کے نام سے لاء کالجز اور قانونی تحقیق کے مراکز قائم کیے جائیں۔

شہداء کے خاندانوں کے لیے موجودہ سہولتوں کا جامع جائزہ لیا جائے۔

8 اگست کے سانحے سے متعلق انکوائری اور عدالتی کارروائی کے نتائج کو عوام کے سامنے لایا جائے۔

دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام میں موجود خامیوں کو مستقل بنیادوں پر دور کیا جائے۔

یہ اقدامات محض شہداء کے لیے نہیں ہوں گے؛ یہ پورے بلوچستان کے مستقبل کے لیے ہوں گے۔
اب تقریر نہیں، عملی خراج چاہیے

آج اگر ہم پھر 8 اگست پر جمع ہوں، شہداء کی تصاویر پر پھول رکھیں، چند تقریریں کریں، آنکھیں نم کریں اور اگلے دن سب کچھ بھول جائیں تو یہ ان عظیم قربانیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
شہداء کو ہماری تقریروں سے زیادہ اداروں کی ضرورت ہے۔
انہیں پھولوں سے زیادہ علم کی ضرورت ہے۔
انہیں رسمی بیانات سے زیادہ قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے۔
اور ان کے خاندانوں کو صرف ہمدردی سے زیادہ مستقل عزت، تحفظ اور ریاستی ذمہ داری درکار ہے۔
8 اگست کا سب سے بڑا انتقام یہ نہیں کہ ہم دہشت گردوں کا نام لیتے رہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تعمیر کریں جہاں دہشت گرد قانون، تعلیم اور انصاف کے سامنے ناکام ہوجائے۔
دس برس پہلے دہشت گردوں نے بلوچستان کے وکلاء کو نشانہ بنایا تھا۔ آج ریاست کے پاس موقع ہے کہ وہ اسی قربانی سے ایک نئی قانونی نسل پیدا کرے۔
اگر ہر سال چند نوجوان وکلاء عالمی معیار کی قانونی تعلیم حاصل کرکے بلوچستان واپس آئیں، اگر ہر ضلع میں شہداء کے نام سے علم کے مراکز قائم ہوں، اگر عدالت میں غریب اور امیر کے لیے ایک ہی قانون ہو، اگر ریاستی ادارے جواب دہ ہوں اور اگر دہشت گردی کے اصل منصوبہ ساز اور سہولت کار قانون کے کٹہرے تک پہنچیں تو یہی 8 اگست کے شہداء کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
8 اگست کا قرض پھولوں سے ادا نہیں ہوگا۔
یہ قرض علم سے، قانون سے، انصاف سے، احتساب سے اور مضبوط اداروں سے ادا ہوگا۔
دس برس بعد بھی ان شہداء کے خاندانوں کا دکھ اپنی جگہ موجود ہے، بلوچستان کی قانونی برادری کا خلا اپنی جگہ موجود ہے اور انصاف کے نظام سے وابستہ سوالات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
لیکن اگر ہم اس سانحے کو اپنی کمزوری کے بجائے اپنی اصلاح کا نقطۂ آغاز بنا دیں تو شاید یہی وہ راستہ ہوگا جس سے 8 اگست کے خون کو ایک بامعنی مقصد دیا جاسکتا ہے۔
شہید وکلاء کے جسم ہم سے جدا ہوگئے، مگر ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے۔
قانون کی بالادستی، آئین کی سربلندی اور کمزور کے حق میں کھڑے ہونے کا نظریہ کبھی نہیں مر سکتا۔
8 اگست کے تمام شہید وکلاء کو سلام۔

اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے لواحقین کو صبر و حوصلہ عطا کرے اور بلوچستان کو ایسا امن، انصاف اور خوشحالی دے جس میں کسی ماں کو اپنے بیٹے، کسی بچے کو اپنے باپ اور کسی خاندان کو اپنے کفیل کی لاش نہ اٹھانی پڑے۔
آمین۔