کوئٹہ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل) اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر آئندہ سماعت پر دلائل پیش نہ کیے گئے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر بیماری کے باعث پیش نہیں ہو سکے۔ اس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیئے کہ اگر سلمان صفدر دستیاب نہیں تو نیا وکیل مقرر کیا جائے۔عدالت میں وکیل سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ سلمان صفدر آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہیں اور بیرون ملک معائنے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے وکالت نامے پر دستخط نہیں کروائے جا سکے۔چیف جسٹس نے یاد دلایا کہ گزشتہ سماعت میں اڈیالہ جیل حکام کو وکلا سے ملاقات کروانے کا حکم دیا گیا تھا۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ وکلا کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تو کروا دی گئی تھی تاہم وکالت نامے پر دستخط نہیں ہو سکے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اپیلوں پر دلائل کا آغاز ہونا چاہیے تھا اور اگر کسی کو اعتراض تھا تو متعلقہ فورم سے رجوع کیا جا سکتا تھا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اپیلوں کو غیر ضروری تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔بعد ازاں عدالت نے سلمان صفدر کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی سے وکالت نامے پر دستخط کروائے جائیں۔
